اسرائیل میں عدالتی نظام میں اصلاحات کے خلاف نئے مظاہرے

تل ابیب میں مظاہرین کی تعداد دسیوں ہزار تھی، حیفا اور بیر السبع میں بھی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل میں "عدالتی نظام میں اصلاحات" کے خلاف نئے مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے ہفتہ کی شام تل ابیب میں مسلسل 21 ویں ہفتے عدالتی نظام میں اصلاحات کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ منصوبہ کو وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور ناقدین اسے قانون، جمہوریت کی بنیادوں کے منافی سمجھتے ہیں۔

مظاہرین دو دیگر بڑے شہروں حیفا اور بیر السبع کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے درجنوں دیگر مقامات پر اصلاحات کی مذمت کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ مظاہرین نے مجوزہ عدلیہ اصلاحات کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

یاد رہے نیتن یاھو حکومت کا اصلاحاتی منصوبہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرتا ہے اور ججوں کے انتخاب میں سیاستدانوں کو زیادہ اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔

مارچ کی 27 تاریخ کو نیتن یاہو نے احتجاجی تحریک کی توسیع اور عام ہڑتال کے آغاز کے بعد "مذاکرات کا موقع" دینے کے لیے قانون سازی کے عمل کو "معطل" کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جاری بات چیت کے نتیجے میں نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

پارلیمنٹ نے بدھ کو ریاستی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ نیتن یاھو نے مفاہمت تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ مظاہروں کی طرح اس مرتبہ بھی تل ابیب کے مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کا تخمینہ دسیوں ہزار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں