اسرائیل نے 8 برس قبل حملوں کی ایک سریز میں داعش کے سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا

حملے شدید اور ایک سے زیادہ ملکوں کی طرف سے کیے گئے، نتائج بھی ناقابل تصور نکلے: آئزن کوٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیلی ٹی وی چینل i24NEWS کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف سٹاف ’’ گاڈی آئزن کوٹ‘‘ نے بتایا ہے کہ 2015 میں اسرائیل نے ایک پڑوسی ملک میں ’’ داعش ‘‘کے خلاف سلسلہ وار حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں داعش کی صفوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

آئزن کوٹ نے اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز میں ایک سیشن کے دوران کہا کہ یہ حملے شدید تھے اور ایک سے زیادہ ملکوں کی طرف سے کیے گئے تھے۔ کچھ مقامات پر آپریشنز اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے تصور سے بھی بالاتر تھے۔ کچھ آپریشنز فوج میں فضائیہ، خصوصی یونٹس اور خارجہ تعلقات سے متعلق شعبہ کے مختلف یونٹس نے کیے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ داعش کا واقعہ ہمارے لیے 2015 میں پیش آیا۔ ایک مخصوص مقام پر ایک حادثہ پیش آیا اور ہمیں حملہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس لیے ہم نے نسبتاً بڑا حملہ کیا۔ اس حملے میں بڑی تعداد میں داعش کے افراد مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں