اسرائیل نے غرب اردن میں ہلاکت خیز فائرنگ کے بعد تین افراد حراست میں لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز ایک فلسطینی گاؤں سے تین افراد کو گرفتار کیا جو فوج کے مطابق ان حملہ آوروں کا مسکن تھا جنہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بستی کے قریب چار یہودیوں کو ہلاک کیا۔

فوج نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے شمالی مغربی کنارے کے عریف گاؤں سے تین "مطلوب افراد" کو حراست میں لیا ہے۔

یہ گرفتاریاں اس وقت ہوئی ہیں جب مسلح افراد نے منگل کو ایلی بستی کے قریب یہودیوں کو نشانہ بنایا، جس میں چار افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے۔

اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کرنے پر متعدد اسرائیلی حکام ہلاک ہونے والے افراد کی قومیتوں کی تصدیق کرنے سے قاصر تھے، جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد اسرائیلی تھے۔

اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے اور مشرقی یروشلم کو چھوڑ کر یہ علاقہ اب تقریباً 490,000 اسرائیلیوں کا مسکن ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی بستیوں میں رہتے ہیں۔

منگل کے حملے میں ، حملہ آوروں میں سے ایک کو ایک شہری نے جائے وقوعہ پر گولی مار دی، جب کہ بعد ازاں اسرائیلی فورسز نے دوسرے حملہ آور کو ہلاک کر دیا جو موقع سے فرار ہو گیا۔

فوج نے بدھ کو کہا کہ "اس کی فورسز عریف میں حملہ آوروں کے گھر پر چھاپے کے لیے داخل ہوئی تھیں،" مگر یہ ان کے انہدام کا پیش خیمہ تھا۔

اسرائیل معمول کے مطابق حملوں کے الزام میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرتا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

ایلی بستی کے قریب فائرنگ کا یہ واقعہ مغربی کنارے کے شہر جنین پر اسرائیلی فورسز کے حملے کے ایک دن بعد ہوا، جس میں اسلامی جہاد کے ایک عسکریت پسند سمیت سات فلسطینی مارے گئے۔

فلسطینی وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا کہ تازہ ترین ہلاکت ایک 15 سالہ لڑکی تھی جو اسرائیلی فوج کی دراندازی کے دوران گولی لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔

پیر کو الگ واقعے میں، اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں بیت لحم کے قریب فلسطینی عسکریت پسند گروپ اسلامی جہاد کے ایک رکن کو ہلاک کر دیا، جس پر فوج نے مولوٹوف کاک ٹیل پھینکنے کا الزام لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں