کیا مصنوعی ذہانت امتحانات میں جعل سازی کا موجب بن رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسکولوں میں طلبا کی طرف سے امتحانات پاس کرنے، ٹیسٹ دینے اور اسائنمنٹس کی تیاری میں نقل کی کوشش معمول کی بات رہی ہے مگرانفارمیشن ٹیکنالوجی کی معرکہ الاراء ایجاد ’مصنوعی ذہانت‘ ایسے افراد جو تحقیق سے جی چراتے اور نقل کے سہارے امتحان پاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں کے لیے ایک نئی سہولت قرار دی جا سکتی ہے۔

گویا امتحانات میں دھوکہ دہی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید اختراعی طریقہ کی کمی تھی سو وہ بھی پوری ہوگئی ہے۔

پرانے دور میں امتحانات میں دھوکہ دہی کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اب ایسے لگتا ہے کہ لوگوں کی علمی دھوکہ دہی کی ہمت بڑھتی جا رہی ہے۔ طلبا کے کوئی بھی پرچہ کھولنے سے پہلے ہی توقعات اور انتظار کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ کوئی کا غذ کا پرزہ، یاتھ یا قلم سے کوئی اشاری نکمے طلبا کے لیے امتحان میں کچھ کر گذرنے کا آخری سہارا ہوتا تھا۔

امتحانات میں دھوکہ دہی کے طریقے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔ وقت کے ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی ہے۔

کاغذ کے ٹکڑے پرلکھی عبارت، پیمانے، رومال یا میز کے نیچے لکھا کتاب کا کوئی مضمون، شرٹ کےاندر، بیلٹ، جوتوں، کرسیوں اور یونیفارم پر عبارتیں لکھنا آج کے دور میں فرسودہ طریقے قرار دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ اکیسویں صدی ہے اور اب امتحانات میں نقل کے بھی نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں۔

یہ یقیناً اس دھوکہ دہی کے علاوہ ہے جو بغیر تیاری کے ہوتی ہے۔ یہ دوسرے طلباء کے جوابات کو جھانکنے یا ان سے سرگوشی میں یا اشاروں کنایوں کی زبان میں جواب دینے کی دھوکہ دہی نہیں۔

جیسے ہی موبائل امتحانی ہالوں میں داخل ہوا، پہلے ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے دھوکہ دہی کے بہت سے واقعات کا پتہ چلا۔ پھر ای میل پیغامات (ای میل) کے متن میں اس کی سمارٹ کاپیاں، پھر بلوٹوتھ میں محفوظ شدہ پرنٹ شدہ یا فوٹو کاپی شدہ دستاویزات کا استعمال۔ ہیڈسیٹ، سمارٹ گھڑیاں وغیرہ۔ یہ سب جدید دور کے امتحانات میں فراڈ کے طریقے استعمال ہوچکے ہیں۔

ہاتھوں سے دھوکہ دہی کے الیکٹرانک آلات میں تبدیل ہونے کے بعد بہت سے معاملات میں جعل سازی کرنےوالے طلبا کی گرفتاری کے واقعات سامنے آئے۔ کئی ممالک کی تعلیم کی وزراتوں نے امتحانی ہالوں میں نگرانی کے جدید طریقے اپنائے، فون ساتھ لے جانے سے منع کیا، کلاس رومز میں نگرانی کے کیمرے لگائے گئے۔ مصر، چین اور مراکش سمیت کئی ممالک میں طلباء کی الیکٹرانک اسٹک کے ذریعے تلاشی لینے کا بھی طریقہ اپنایا گیا۔

’حیران ہوں کہ بچے اچانک کیسے اتنے ذہین ہوگئے‘

لبنانی معلمہ سمر بتاتی ہیں کہ وہ خوش قسمت تھیں کیونکہ ان کے طالب علموں کی عمریں آٹھ سال سے کم ہیں اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ابھی تک ان تک نہیں پہنچی۔

لیکن انہوں نےاپنی ساتھی معلمات کو شکایت کرتے ہوئے سنا کہ ان کے طلبا واقعی خود سے بہت سے سوالات حل کررہے ہیں۔ والدین نے اپنے بچوں کے ہوم ورک کو حل کرنے کے لیے مداخلت کی اور طلباء مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز اور ویب سائٹس پر انحصار کرنے لگے۔

سمر کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ان میں سے کچھ سائٹس کو آزمایا اور ان کا استعمال طلبہ کے فہم میں نئے آئیڈیاز اور سوالات تلاش کرنے کے لیے کیا۔

ایک مختلف تناظر میں مڈل اسکول کی ایک ٹیچر بسمہ حرب کہتی ہیں کہ انہوں نے اچانک دیکھا کہ ان کے طلبہ کچھ اسائنمنٹس لکھنے میں تیزی کے ساتھ بہتر ہورہے ہیں۔ میں حیران تھی کہ طلبا اچانک کیسے اتنے ذہین ہوگئے ہیں؟۔

بعد میں انھیں پتہ چلا کہ انھوں نے ایک دوسرے کو لکھنے کے لیے "چیٹ جی پی ٹی" کا استعمال کرنا سکھایا ہے۔ فرانسیسی زبان کے ہوم ورک میں بچوں نے سو فی صد درست کام کیا جس پرانہیں شبہ ہوا۔ ان کی چھان بین کرنے اور ان کے اہل خانہ سے بات کرنے کے بعد پتہ چلا کہ انھوں نے دھوکہ دیا ہے۔

بسمہ کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے انہوں نے مصنوعی ذہانت کا کوئی استعمال نہیں آزمایا تھا، لیکن انہیں امتحانات اور اسباق کی تیاری کے لیے اسے کارآمد معلوم ہوا، اور اسے استاد کے لیے تحقیقی وقت کو کم کرنے کے لیے بطور معاون استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بسمہ نے اپنے ساتھیوں کی توجہ اس معاملے کی طرف مبذول کرائی۔ ریاضی کے استاد نے بتایا کہ زیادہ تر طالب علم مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سوال حل کرتے ہیں خاص طور پر الجبرا وغیرہ۔

یونیورسٹی کا طریقہ کار

ایک لبنانی یونیورسٹی کی ماہر تعلیم مریم کردی کا کہنا ہے کہ کچھ طالب علموں نے ایک پروگرام کے وسط مدتی پروجیکٹ میں دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا۔ اس کی چھان بین کی گئی کہ آیا تحریر انسانی ہے یا خودکار، تحقیق سے معلوم ہوا 60 فیصد سے زیادہ طالب علموں نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا تھا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ان میں سے کچھ نے کچھ جملوں اور نمبر اور اشاریہ سازی کے طریقے کو بدلا، لیکن آخر میں وہ مختلف طریقوں سےسامنے آگئے۔ وہ ان ایپلی کیشنز کو استعمال کرنے کے خلاف نہیں بلکہ سائنسی طریقے سے بغیر متن کی نقل کرنے کے انہیں سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

معلمہ کردی نے سال کے آخر میں ہونے والے امتحانات میں کسی بھی قسم کے الیکٹرانک ذرائع کو متعارف کرانے سے روک دیا۔

مصنوعی دھوکہ دہی کا پتہ کیسے لگاتا ہے؟

طلبہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے امتحانات اور پروجیکٹس کو دھوکہ دینے کے لیے یا تو مکمل متن بنا کر یا سوالات کے جوابات دیتے ہوئےاستعمال کرتے ہیں۔ یہ کسی خاص مسئلے میں پھنسے طالب علموں کے لیے کارآمد اور تحقیق کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ٹول استعمال کرنے سے گوگل یا اس قبیل کے دوسرے سرچ انجنز پر تلاش اور علمی سرقے سے بچا جا سکتا ہے۔

پروفیسرز دیگر ذرائع سے مواد کی نقل کرکے طالب علموں کو دھوکہ دہی سے روکنے کے لیے سرقہ کا پتہ لگانے کے لیے AI سے چلنے والے ٹولز کا استعمال کر سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ طلبہ AI سے چلنے والے سرقہ کا پتہ لگانے والے ٹولز بھی استعمال کر سکتے ہیں تاکہ وہ ایسے مواد کی شناخت کر سکیں جسے وہ پکڑے بغیر کاپی کر سکتے ہیں۔

اساتذہ کو چاہیے کہ وہ علمی دیانت کا کلچر پیدا کریں تاکہ طالب علموں کو دھوکہ دہی سے روکا جا سکے۔ انہیں علمی ایمانداری کی اہمیت سے آگاہ کیا جائےجس سے سائنس کو ترقی دینے میں مدد ملے اور علم کو مستند جہتوں میں فروغ دیا جا سکے۔

اساتذہ کو اس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی دھوکہ دہی کی جدید ترین تکنیکوں سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ اس لیے وہ تحقیقی پروجیکٹوں اور اسائنمنٹس کو ایسے پروگراموں کے ذریعے تفتیش کے لیے موضوع بناتے ہیں جو انسانی تحریر اور مشینی تحریر میں فرق کا بتا تے ہیں۔

شاید ان ایپلی کیشنز میں سب سے نمایاں ہیں (Originality.ai, GPTZero, Copyleaks) ہیں جو سرقہ کا پتہ لگاتے ہیں اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ اور مشین لرننگ پر کام کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ مواد مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا تھا یا یہ انسانی تخلیق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں