دبئی کسٹمز نے 2023 میں اربوں ڈالر کی منشیات سمگلنگ کو کیسے ناکام بنایا

ہم نے آسٹریلیا، کینیڈا اورجاپان میں منشیات کی بڑی مقدار پکڑنے میں مدد کی: ڈی جی احمد محبوب مصابیح کا العربیہ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

دبئی کسٹمز نے اپنی سرحدوں سے باہر اور بین الاقوامی پانیوں میں منشیات کی سمگلنگ اور منشیات سے متعلق گروہوں کے خلاف اپنی لڑائی کامیابی سے لڑی ہے۔ دبئی کسٹمز نے 2023 میں ایشیا، اوشیانا اور شمالی امریکہ کے براعظموں میں اربوں ڈالر مالیت کے غیر قانونی منشیات کو پکڑنے میں بھرپور مدد کی ہے۔

العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں دبئی کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل اور پورٹس، کسٹمز اور فری زون کارپوریشن کے سی ای او احمد محبوب مصابیح نے وضاحت کی کہ کس طرح اس کے انٹیلی جنس افسران دنیا بھر کے کسٹم دفاتر کے ساتھ مل کر اور دنیا بھر کے کسٹم آفسز کے ساتھ رابطے میں رہ کر ہائی پروفائل کے کیسز میں منشیات کی بڑی مقدار کو قبضہ میں لیا۔

ان بڑی کارروائیوں میں سے ایک میں آسٹریلیا میں 1.1 بلین ڈالر کی منشیات ضبط کی گئی۔ ایک اور آپریشن میں ایشیائی ملک سے کینیڈا جانے والے بحری کنٹینر سے 547 کلوگرام منشیات پکڑی گئی۔ اسی طرح جاپان کے لیے بھیجا جانے والا 700 کلو گرام غیر قانونی میتھیمفیٹامائن پاؤڈر بھی ضبط کیا گیا۔

جاپان جانے والی کھیپ کی مالیت تقریباً 300 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اسے ایک ایشیائی ملک کے کارگو جہاز پر پینل کے اندر چھپا دیا گیا تھا۔ احمد محبوب نے بتایا کہ یہ ضبطی ٹوکیو بندرگاہ پر کی گئی۔ یہ جاپان میں اب تک کی دوسری سب سے بڑی منشیات کی ضبطی ہے۔

احمد محبوب نے العربیہ کو بتایا کہ متعدد ملکوں کے کسٹم افسران نے منشیات کے قبضے کے سلسلے میں انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی کی۔ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف عالمی جنگ سے وابستہ ہوکر دبئی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

عالمی شراکت داروں سے تعاون

احمد محبوب نے بین الاقوامی پانیوں میں منشیات کی کھیپ کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے دنیا بھر کے کسٹم حکام کے ساتھ کلیدی تعلقات استوار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ منشیات کی روک تھام میں کسٹم انتظامیہ کے ساتھ ہمارا تعاون مختلف چینلز اور علاقائی معلومات کے تبادلے کے دفاتر کے ذریعے متعدد ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔

دبئی کسٹمز افسران کام پر
دبئی کسٹمز افسران کام پر

انہوں نے بتایا دبئی کسٹمز میں خاص طور پر سمگلنگ کی کوششوں اور خاص طور پر منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ایک الگ محکمہ قائم کیا گیا ہے۔

احمد محبوب مصابیح نے وضاحت کی کہ کسٹمز انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے نام سے معروف یہ محکمہ انسانی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی وسیع رینج سے لیس ہے۔ یہ ڈیپارٹمنٹ حکام کو پیشہ ورانہ طور پر پیش آنے والے کسی بھی ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے قابل بناتا ہے۔

انہوں نے بتایا دبئی کسٹمز منشیات سے متعلقہ جرائم سے نمٹنے کے لیے وقف بین الاقوامی تنظیموں جن میں انٹرپول اور عالمی کسٹمز آرگنائزیشن کے علاقائی دفاتر شامل ہیں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنائے ہوئے ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں ریجنل انٹیلی جنس لائیسن آفس (RILO) سے تعاون کرکے منشیات سمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنایا جاتا ہے۔

1999 سے دبئی کسٹمز نے RILO کے ساتھ ایک خصوصی معلومات کے تبادلے کا دفتر قائم کیا ہے۔ اس دفتر نے علاقائی اور بین الاقوامی معلومات کے تبادلے میں معروف کسٹم انتظامیہ کے طور پر پہچان حاصل کرلی ہے۔

دبئی کسٹمز افسران کام پر
دبئی کسٹمز افسران کام پر

انہوں نے کہا ہم اپنے کسٹم افسران کی تربیت اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ یقینی بناتے ہیں کہ وہ سرحدی کنٹرول، جرائم اور خطرے کو مینج کرنے کے ماہر بن جائیں۔

احمد کے مطابق دبئی کے کسٹمز افسران اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے خصوصی تربیتی پروگرام کے تعاون سے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے معلومات اور ہنر سیکھتے ہیں۔ خصوصی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جاتا اور مربوط معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

کینیڈا میں منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کی کارروائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ کامیابی کینیڈا کے حکام کے ساتھ باہمی تعاون کی کوششوں کے ذریعے حاصل کی گئی۔

۔ہمارے افسران سیکورٹی اور کسٹم آپریشنز کے مختلف پہلوؤں میں وسیع مہارت رکھتے ہیں جس نے ہمیں منشیات کی اس بڑی مقدار کو پکڑنے میں کینیڈا کے حکام کی مدد کرنے کے قابل بنایا۔ ہمارے افسران نے انٹیلی جنس معلومات کا تجزیہ کیا، ترسیل کا پتہ لگایا اور اہم ڈیٹا کا تبادلہ کیا تھا۔

ٹیکنالوجی کا استعمال

دبئی کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق معلومات کے تجزیے میں جدید تکنیکوں کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ مربوط کوششوں کے ذریعے ہم نے جامع معلومات کا اشتراک کرنے کے لیے جدید ٹریکنگ کی صلاحیتوں کا استعمال کیا تھا۔

دبئی کسٹمز افسران کام پر
دبئی کسٹمز افسران کام پر

انہوں نے واضح کیا کہ منشیات سمگل کو ناکام بنانے کے پیچھے ایک طویل اور صر آزما کارروائی کی جاتی ہے۔ منشیات سمگلنگ کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے نگرانی، تجزیہ اور کنرول کرنے کے لیے بسا اوقات مہینوں کی کاوش کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے مدت کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔ ان عوامل میں منشیات سمگلروں کے نیٹ ورک کی نوعیت، سمگلنگ کی کوششوں میں استعمال کی جانے والی تکنیکوں اور حکمت عملی شامل ہے۔

مصابیح کے مطابق منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی دبئی کسٹمز کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون، پانی کے اندر روبوٹس، مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی کرنے والے آلات اور میٹاورس کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے دبئی کسٹمز کی ڈولفن سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک سمندری روبوٹ ہے جو شکل میں ڈولفن سے مشابہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز سے لیس ہے۔ اس میں واٹر پروف 12 میگا پکسل کا ’’فور کے‘‘ کیمرا ایک روبوٹک بازو سے منسلک ہے جو 220 ڈگری کے زاویے کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ آبدوز 8 ناٹ یا 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پانیوں سے گزر سکتی ہے۔ لائیو ویڈیوز ریکارڈ کر سکتی ہے۔ یہ جی پی ایس کی مدد سے پانی کے اندر مخصوص مقامات کو بھی سکین کرسکتی ہے۔ اس ڈولفن آبدوز کے کنٹرول اور سٹریمنگ کی حد تقریباً ایک کلومیٹر ہے۔

کسٹم انسپکٹرز ڈولفن کو دور سے کنٹرول کر سکتے ہیں اور انہیں بندرگاہ میں داخل ہونے سے پہلے بحری جہازوں اور ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کسٹم حکام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کشتیوں کی طرف سے چیکنگ سے قبل ممنوعہ سامان اتارنے کی کوششوں بھی پتہ لگا لیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور کسٹم ڈیٹرنس ڈرون بھی ہے جو روایتی لکڑی کے بحری جہازوں کے معائنہ کے طریقہ کار میں مدد کرتا ہے جہاں سمگلر چیزوں کو بلک ہیڈز اور چھپے ہوئے ڈبوں میں چھپاتے ہیں۔

عوامی اطلاعات پر انحصار

احمد محبوب مصابیح نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے علاوہ دبئی کسٹمز عوام کی دی گئی اطلاع پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ہمارے پاس 'RAFID' کے نام سے ایک سروس ہے جو کسٹمز کی کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی یا خطرات کی اطلاع دینے اور عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے دبئی کسٹمز کی ہاٹ لائن ہے۔ یہ سروس رازداری کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دبئی کے ایئرپورٹس اور داخلے کے مقامات پر منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ہم جن سسٹمز کو استعمال کرتے ہیں ان میں ایک ’’ ارلی پیسنجر انفارمیشن سسٹم‘‘ بھی ہے۔ یہ سسٹم ہمیں مسافروں اور ان کے سامان سے متعلق خطرات کا جائزہ لینے کے قابل بنا دیتا ہے۔

مصبیح نے کہا ہم مسافروں کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سامان اور مسافروں کی سکریننگ کے آلات استعمال کرتے ہیں۔

مصابیح کے مطابق مشرق وسطی کی سب سے بڑی بندرگاہ ’’جیبل علی پورٹ‘‘ پر سمندر اور کنٹینرز کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کی کوششوں کی روک تھام کے لیے دبئی کسٹمز کے پاس میگا پورٹ پر چھ ریڈی ایشن سکیننگ ڈیوائسز موجود ہیں۔

حالیہ عرصہ میں بھی ’’ جیبل علی پورٹ‘‘ کے کسٹمر سنٹر کو ایک جدید نظام سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ ایکس رے سکینگ کا استعمال کرنے والا اپنی نوعیت کا پہلا نظام ہے۔ اس نظام سے معائنہ کے وقت کو 6 گھنٹوں سے کم کرکے پانچ منٹ تک کم کردیا گیا ہے۔

یہ نظام دو طریقوں میں کام کرتا ہے ایک سٹیشنری موڈ ہوتا ہے جہاں گاڑی ایک مقررہ پوزیشن میں ہے۔ دوسرا موونگ موڈ ہے جہاں سے گزرتی ہوئی گاڑی کو بھی سکین کر لیا جاتا ہے۔ یہ نظام تابکار مواد کا پتہ لگا سکتا اور اس کے مقام کا بھی تعین کر سکتا ہے۔ کنٹینرز کے کنٹینر نمبروں کے ذریعے کسٹم ڈیکلریشن کی بھی شناخت کر لیتا ہے۔ یہ نظام ریموٹ کنٹرول کی صلاحیتوں سے لیس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’’سمارٹ رسک انجن سسٹم‘‘ اندرونی طور پر تیار کردہ جدید نظاموں میں سے ایک ہے جو ڈیٹا کے تجزیہ اور خطرناک آپریشنز کی نگرانی کے لیے ہمارے انسانی وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ یہ ایک ذہین نظام ہے جو اشیا اور افراد کے کسٹم ڈیٹا کے بارے میں متعدد چینلز سے معلومات حاصل کرتا ہے۔

مصابیح نے کہا کہ دبئی کسٹمز سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے معیشت اور مجموعی طور پر معاشرے کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون ہمارے اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ سرحد پار جرائم کے لیے سرحدی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف علاقائی اور عالمی فریقوں کے درمیان جامع ہم آہنگی ضروری ہے۔ یہ ہم آہنگی سمگلنگ کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

دبئی کسٹمز کی اس کارکردگی سے مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ملک کی مسابقت میں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے عالمی اشاریوں اور رپورٹوں میں امارات کی پوزیشن سب سے آگے ہے۔ امارات دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں ٹاپ کے نمبروں پر موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں