عراق کے سرکردہ شیعہ سیاسی اور مذہبی رہ نما اور الصدر تحریک کے سربراہ مقتدیٰ الصدرنے نامعلوم جماعتوں پر تشدد اور ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے اہل تشیع کو آپس میں لڑانے کا الزام عاید کیا ہے۔ انہوں نے عراقی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات کو دور کرنے کے لیے مذہبی علامات ، شعائر اور علماء کی توہین کو جرم قرار دینےکےلیے قانون سازی کرے۔
الصدر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "کچھ نفرت انگیز جماعتوں نے ہمارے مراکز کے خلاف تشدد اور ہتھیاروں کا استعمال کرکے شیعہ فتنہ پھیلانے میں عجلت دکھائی کی ہے۔ کچھ ایسی جماعتیں ہیں جو دنیاوی فائدے کے لیے خون بہانے اور فتنہ پھیلانے سے دریغ نہیں کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے آپ کو پہلے خبردار کیا تھا کہ جنگ نظریاتی ہو گی، اس لیے جنگ ہر گز خونی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نظریاتی اور مذہبی طور پر حرام ہے۔"
— مقتدى السيد محمد الصدر (@Mu_AlSadr) July 17, 2023
انہوں نے کہا کہ"اگر غیر منصفانہ یا بغیر کسی تعمیری وجہ کے علماء کی توہین کو جرم قرار دینے کے لیے کوئی قانون نافذ نہیں کیا جاتا ہے تو ہمارے پاس تشدد سے بہت دور راستےبھی ہیں"۔
انہوں نے کہا کہ"پارلیمنٹ کے گنبد کے نیچے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے کچھ پارلیمانی سیاسی قوتوں کی میٹنگ سے بغاوت کو کم کرنے کی امید ملتی ہے۔"
جب عراق میں صدرتحریک کے مشتعل حامیوں نے ہفتے کی رات کئی عراقی گورنریوں میں دعوہ پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا اور بند کر دیا تھا۔
السامریہ نیوز کے مطابق اتوار کی صبح ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم عناصر نے نجف میں پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کو آر پی جی کے ذریعے نشانہ بنایا۔
-
عجیب بہانہ تراش کر 296 سال قدیم مینار گرا دیا گیا، عراق میں اشتعال
عراق میں بصرہ کی جنوبی گورنری میں جامع مسجد ’’السراجی‘‘اور اس کے 300 سال قدیم ...
مشرق وسطی -
عراقی وزیر اعظم السودانی کی شام میں جنگ کے بعد پہلے دورے پر دمشق میں آمد
عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے اتوار کے روز شام کا سرکاری دورہ شروع کیا ...
مشرق وسطی -
عراق میں سعودی سرحد کے قریب کیپٹاگون پروڈکشن فیکٹری پکڑی گئی
عراق نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی سرحد کے قریب علاقے میں کیپٹاگون تیار کرنے ...
مشرق وسطی