گرمی بڑھنے اور بجلی کی قلت کے باعث ایران میں دو روز تعطیل کا اعلان

ماہرین نے پانی اور گیس کے دیوالیہ پن کے انتباہات کا اعادہ کیا، چھٹیاں بجلی کی کمی کو چھپانے کی کوشش: ناقدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں شدید گرمی اور بجلی کی قلت کے اندیشہ کے دوران سرکاری ملازمین کی چھٹیاں بڑھا دی گئیں۔ ماہرین نے پانی اور بجلی سے متعلق بد انتظامی سے بھی خبردار کردیا ہے۔ ایران میں درجہ حرارت 40 اور 50 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا ۔ حکومت نے وزارت صحت کی سفارش پر مبنی "صحت عامہ کے تحفظ" کے لیے بدھ اور جمعرات کو چھٹی کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف مبصرین اور صحافیوں نے حکومت پر الزامات عائد کیے ہیں کہ حکومت اس اقدام سے بجلی کی کمی کے مسئلے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومتی ترجمان علی بہادری جہر می نے منگل کے روز کہا تھا کہ کابینہ نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے بدھ اور جمعرات کو سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ وزارت صحت کے ایک ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں موسم کے درجہ حرارت سے متعلق بیماری کے کیسز خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں۔

ایرانی حکام نے بجلی بچانے کے لیے پبلک سیکٹر کے ملازمین کے کام کے اوقات کو جون میں تبدیل کر دیا تھا۔ "پاسداران انقلاب" سے وابستہ "تسنیم" ایجنسی نے کہا ہے کہ اگر وزارت صحت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ گرمی سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے تو حکومت کی طرف سے دی گئی چھٹی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں وزارت صحت ہفتہ کے دن کو بھی تعطیل کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مرکز برائے پانی کے ڈائریکٹر کاوہ مدنی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران میں پانی، گیس اور بجلی کے دیوالیہ ہونے کا مسئلہ تعطیل سے حل نہیں ہوگا۔ جس طرح ریت کے طوفان، گردوغبار اور فضائی آلودگی کا مسئلہ تعطیل کرنے سے ختم نہیں ہو جاتا۔

مدنی حسن روحانی کی حکومت کے دوران ایرانی ماحولیاتی تنظیم کے نائب سربراہ تھے۔ اس کے بعد انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا تھا ۔ اس وقت ایرانی پاسداران انقلاب کے میڈیا نے ان پر سکیورٹی کے حوالے سے الزامات لگائے تھے۔

مدنی نے کہا کہ اگر آپ سیکڑوں ڈیم مناسب انتظام کے بغیر بناتے ہیں تو آخر کار پانی کی کمی ہو جائے گی۔

مدنی نے ایران کے پاس دنیا کے سب سے بڑے گیس کے ذخائر ہونے کے باوجود گیس کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ایرانی خطوں کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔

واضح رہے عراق، پاکستان اور افغانستان کو بھی ایران بجلی برآمد کرتا ہے۔ ایران ترکمانستان سے بجلی درآمد کرتا ہے اور آرمینیا سے بجلی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

’’ تجارت نیوز‘‘ کے چیف ایڈیٹر مرضیہ محمودی نے ٹویٹر پر لکھا کہ بدھ اور جمعرات کو چھٹی کی وجہ زیادہ درجہ حرارت نہیں ہے بلکہ خطے کی بڑی طاقتوں کے پاس بجلی کا نہ ہونا ہے۔

ماہرین کئی سالوں سے ایران میں پانی کے دیوالیہ پن کا انتباہ دے رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے دریاؤں کے دھارے کو تبدیل کرنے اور مغربی اور جنوبی صوبوں سے پانی کو ملک کے وسط کے خشک علاقوں میں منتقل کرنے کے مقصد سے ڈیم بنانے پر اصرار کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ملک کے جنوب مشرق میں واقع صوبہ بلوچستان میں پانی کی قلت کی وجہ سے مظاہرے کئے گئے۔ ایرانی حکام طالبان حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ دونوں ملکوں کی سرحد پر دریائے ہلمند میں پانی کا حصہ بڑھائے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ملک میں ایک مرتبہ پھر ویسے مظاہرے شروع ہوسکتے ہیں جیسے مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں