عراق میں ایک اور بچہ سوتیلی ماں کے تشدد سے لقمہ اجل بن گیا، لرزہ خیزتفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ ماہ عراقی دارالحکومت کو ہلا کر رکھ دینے والے ایک ہولناک جرم میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں موسی ولاء نامی 7 سالہ لڑکا اپنی سوتیلی ماں کے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ہلاک ہو گیا تھا۔

کل جمعرات کو بغداد کرائم کنٹرول سینٹر نے قاتل سوتیلی ماں کے اعترافی بیان کی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں اس نے کہا کہ میں نے بچے کو تشدد کرکے قتل کیا۔ تشدد کا شکار ہونے والا بچہ بغداد کے الشعلہ شہر کے الخطیب ڈاریکٹوریٹ میں مر گیا۔

اس نے کہا کہ "میں نے اسے کئی بار مارا جو شمار نہیں کیا جا سکتا اور وہ مجھے ماما کہہ رہا تھا، میں نے اسے زور سے دھکا دیا، وہ شیشے کی کھڑکی پر گرا، اور وہ شیشہ ٹوٹ گیا"۔

مقتول کے بھائی کا بیان

مقتول بچے کے بھائی احمد نے بھی لمحہ فکریہ بن جانےوالے اس خوفناک واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ اس نے بتایا کہ کہ سوتیلی ماں نے اس کے بھائی کی آنکھوں میں نمک ڈالا، اس کے ہاتھ تندور پر رکھے اور اسے بے شمار بار اس کے سر اور جسم پر چھری سے مارا۔ جب وہ مر گیا اس نے کہا کہ وہ اداکاری کر رہا تھا۔

اس نے بتایا کہ "میرے والد میرے اور میرے بھائی کے جسموں پر تشدد کے نشانات دیکھتے تھے، لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی"۔ انہوں نے بغداد میں جرائم کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ایک ویڈیو میں کہا کہ ان کی سوتیلی ماں بچے کو کپڑے پہناتی تھی۔ تشدد کے نشانات ڈھانپنے کے لیے بچے کو گرمیوں میں سردیوں کے کپڑے پہناتی تھی۔

اس کے ہاتھ چولہے پر جل گئے

مقتول موسیٰ کے بھائی نے مزید بتایا کہ "وہ سوتیلی ماں اس کی آنکھوں اور منہ میں نمک ڈالتی تھی اور جب اس نے اسے بتایا کہ وہ قے کرنے والا ہے تو وہ اسے کہتی تھی، 'میں تمہیں مار ڈالوں گی اور تمہیں اور نمک کھلاؤں گی'۔ اس کے بھائی کے ہاتھ جل گئے تھے کیونکہ اس نے انہیں گیس پر رکھا تھا۔

اس نے بتایا کہ اس کے بھائی کو اس کے سر کے 3 حصوں میں چاقو سے مارا گیا جس سے واضح نشانات پڑے۔

سوتیلی ماں کو پھانسی دی جائے

احمد نے اپنے بھائی کی زندگی کے آخری لمحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "میرا بھائی میرے پاؤں پر اور میری آنکھوں کے سامنے مر گیا، اس نے خود کو روک لیا اور اس کی آنکھیں سفید ہو گئیں۔ وہ اسے مار رہی تھی جب کہ وہ مردہ تھا۔

اس نے مزید کہا کہ "ان کا انتقال صبح 11 بجے ہوا، دوپہر 3 بجے میں نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو دفن کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا "میرے والد متاثر نہیں ہوئے اور کہا کہ وہ اداکاری کر رہا ہے۔"

احمد نامی بچے نے مطالبہ کیا کہ اس کے بھائی کے قتل پر سوتیلی ماں کو سزائے موت دی جائے۔

دوسری طرف مقتول بچے کی ماں نے بغداد کےانسداد جرائم سیل سے متعلق ایک ویڈیو میں کہا کہ اس نے اپنے بچوں کو نہیں چھوڑا مگر اس کا شوہر اسے طلاق دینے کے بعد بچوں کو زبردستی لے گیا، لیکن باپ نے اسے ان سے محروم کر دیا اور کہاکہ "میں نے اپنے بچوں کی تحویل کے لیے شکایت درج کروائی، لیکن میرے شوہر نے مجھے دھمکی دی کہ ہم قانون کو نہیں جانتے۔ میں تمہارے بچوں کو لے جا کر قتل کر دوں گا۔

عوامی حلقوں میں شدید غصہ

اس واقعے پر عراق میں سوشل میڈیا پر شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے بچے کو قتل کرنےوالی خاتون کو عبرتناک سزادینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

جائے وقوعہ کو دیکھنے والے ایک افسر نے الٹرا عراق ویب سائٹ کو بتایا کہ "بچے کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات نمودار ہوئے ہیں۔ بیوی نے گہرائی سے تفتیش کے بعد اعتراف کیا کہ اس نے تشدد کا جرم کیا ہے۔ اب وہ عدلیہ کے سامنے پیشی اور سزاکے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں