ادلب میں شدت پسندوں کے بارودی سرنگوں سے حملے میں 11 شامی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی علاقے میں شدت پسندوں نے ہفتے کے روز11 شامی فوجیوں کو بارودی سرنگوں کے حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔شدت پسندوں نے فوج کے ٹھکانوں کے نیچے کھودی گئی سرنگوں میں رکھے بارود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس سے 20 فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ یہ حملہ انصار التوحید گروپ اور ترکستان اسلامی جماعت (ٹی آئی پی) کے شدت پسندوں پر مشتمل گروپ نے کیا ہے اور انھوں نے صوبہ ادلب کے جنوب میں فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوج کے ٹھکانوں کے نیچے کھودی گئی سرنگوں کو دھماکے سے اڑا دیا اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر سرنگوں سے بھی حملہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ حملہ روس کے ادلب کے قریب جسرالشغور کے علاقے پر فضائی بمباری کے ایک روز بعد کیا گیا ہے جہاں ٹی آئی پی کے شدت پسند موجود ہیں۔

اس حملے میں ملوّث دونوں گروپ شدت پسند تنظیم ہیئۃ تحریرالشام (ایچ ٹی ایس) سے وابستہ ہیں۔اس تنظیم کا صوبہ ادلب کے ساتھ ساتھ حلب، حماہ اور اللذاقیہ کے ملحقہ صوبوں کے کچھ حصوں پر کنٹرول ہے۔

رصدگاہ نے کہا ہے کہ شام کے شمال میں صدر بشار الاسد کی سرکاری فوج کی بمباری سے جمعہ کو ایچ ٹی ایس کے سات جنگجو ہلاک ہوئے تھے اور گذشتہ پیر کے روز روس کے فضائی حملوں میں 13 مزید جنگجو مارے گئے تھے۔

ادلب کے نزدیک روس کے فضائی حملوں میں دو شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ملی ہے۔شام میں جنگ پر نظر رکھنے والی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز ایک حملے میں ’دو شدت پسندوں نے اپنی جانیں لے لیں‘ اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ شدید جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

ترکستان اسلامی جماعت زیادہ تر چین کے صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والی ایغور مسلم اقلیت کے انتہا پسندوں پر مشتمل ہے۔ یہ جنگجو 2011 کے بعد ایچ ٹی ایس جیسے گروہوں کی مدد کے لیے شام آئے تھے۔ ہیئۃ تحریرالشام کی قیادت شام میں القاعدہ سے وابستہ سابقہ تنظیم کر رہی ہے۔

ادلب میں حزبِ اختلاف کے زیرِقبضہ علاقے میں قریباً 30 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ان میں سے نصف گذشتہ برسوں کے دوران میں شام کے دیگر علاقوں سے لاکر آباد کیے گئے ہیں۔

روس اور حزب اختلاف کے حامی جنگجو ترکیہ کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے پر 2020 سے عمل پیرا ہیں لیکن اس کے باوجود شام کے شمال مغربی علاقے میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ شام کی جنگ میں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور جنگ سے قبل ملک کی نصف آبادی کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ان میں زیادہ ترپڑوسی ملک ترکیہ اور اردن میں پناہ گزینوں کیمپوں میں مقیم ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مغربی ممالک رُخ کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں