ایرانی وزیرخارجہ کا دورۂ شام؛ مشترکہ معاہدوں پر تیزرفتارعمل درآمد پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اس سال کے اوائل میں صدر ابراہیم رئیسی کے دورۂ شام کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد میں تیزی لانے کے لیے دمشق کا دورہ کر رہے ہیں۔

مئی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے جنگ زدہ ملک کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے طویل مدتی تعاون کے مختلف معاہدوں اور سمجھوتوں پر دست خط کیے تھے۔ان کا مقصد دونوں اتحادیوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔

ایرانی وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’’میں صدر رئیسی اور ان کے شامی ہم منصب بشار الاسد کے درمیان دست خط شدہ معاہدوں پر عمل درآمد میں تیزی لانے کے لیے دمشق جا رہا ہوں‘‘۔

امیرعبداللہیان نے کہا کہ وہ شام کے سینیر حکام کے ساتھ تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔انھوں نے مزید کہا:’’ایران شام میں استحکام،امن کے قیام ،اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے‘‘۔

2021ء میں ایران کاوزیرخارجہ بننے کے بعد حسین امیر عبداللہیان کا شام کا یہ ساتواں دورہ ہے۔

ایران صدر بشارالاسد کا قریبی اتحادی ہے۔ وہ 2011ء میں شام میں مسلح تنازع کے آغاز کے بعد سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں میں ملوّث رہا ہے۔گذشتہ برسوں کے دوران میں اس نے اسد حکومت کی حمایت میں ہزاروں ایرانی اور غیر ملکی جنگجو بھیجے ہیں جوشامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں