سمندری طوفان ڈینیل کے اثرات کی متوقع آمد کی تیاری میں لیبیا میں گذشتہ گھنٹوں کے دوران مکمل الرٹ دیکھا گیا ہے۔
ملک کی 3 بڑی بندرگاہوں کو 3 دن تک بند رکھنے کے بعد مسلح افواج اور ایمرجنسی حکام نے ساحلوں کے قریب واقع متعدد ہوٹلوں کو خالی کرا لیا ہے۔
ان ہوٹلوں میں بن غازی بیچ پر واقع گالیانا ہوٹل کو گاہکوں سے خالی کر دیا گیا تھا۔ اتوار کو سمندر کی اونچی لہروں اور تیز ہواؤں کی وارننگ کے بعد اس کے مہمانوں کو دوسرے ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیجز میں لیبیا کے ساحلی علاقوں کی سڑکوں پر پانی بہتے دیکھا جا سکتا ہے۔
⚠️ الرياح تسبب في تماس كوابل أعمدة الكهرباء وتقطع التيار عن بعض المناطق و الشركة تدعو المواطنين للإتصال والإبلاغ وعدم الاقتراب من أي أسلاك أو أعمدة معطوبة . #ليبيا #المرصد pic.twitter.com/KwI1kpcmii
— صحيفة المرصد الليبية (@ObservatoryLY) September 10, 2023
لیبیا میں عوامی حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر تیز ہواؤں کے خوفناک مناظر بھی شیئر کیے جا رہے ہیں۔ متعدد محلوں میں بجلی کے ٹرانسفارمرز میں "بجلی کے شارٹ سرکٹ" کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
حکام نے ملک کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں سمندری طوفان کی وجہ سے ہائی الرٹ کیا ہے۔
لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے افواج پوری طرح چوکس ہیں۔
جبکہ متحدہ حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے وزراء اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ آنے والے دنوں میں متوقع موسم کے نتیجے میں آنے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے "ریپڈ ریسپانس ٹیمیں تشکیل دیں"۔
بن غازی کی میونسپلٹی نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور انتہائی ضرورت کے علاوہ گھروں سے نہ نکلیں۔