ایران کی کردستان میں تشدد کی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں:عراقی وزیر خارجہ

ایرانی صدر رئیسی سے نیویارک میں ملاقات ہوگی،کویت سے آبی گذرگاہوں کے تنازع پر بات چیت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے کہا ہے کہ خود مختار شمالی علاقے کردستان میں تشدد یا ملک کی خودمختاری کی کسی خلاف ورزی کا کوئی بھی خطرہ بغداد میں وفاقی حکومت کے لیے ناقابل قبول ہے۔

انھوں نے العربیہ کے پروگرام ڈپلومیٹک ایونیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ کردستان کی علاقائی حکومت اوراس خطے نے سلامتی کے معاہدے کی پاسداری کی ہے۔لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرے اور عراق کی خودمختاری کے خلاف تشدد کا استعمال نہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں کسی ایرانی حملے کی توقع نہیں کرتا اور میں چاہتا ہوں کہ پرتشدد زبان کا رُخ بھی عراق کی طرف نہ ہو‘‘۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے مستقبل میں سرحد پار کسی بھی جھڑپ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کیے گئے سلامتی کے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

فواد حسین کا کہنا تھا کہ عراق نے اپنے طور پر اس معاہدے کو برقرار رکھا ہوا ہے اور یہ واضح ہے کہ وفاقی حکومت اور کردستان کی علاقائی حکومت نے سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں، جس میں سرحدی علاقوں میں موجود ان لوگوں کی کیمپوں میں واپسی بھی شامل ہے، جن کے رہنے کے لیے پانچ کیمپ قائم کیے گئے تھے۔ایران اس معاملے سے بخوبی آگاہ ہے۔دوسرا یہ کہ ہم انھیں (کردوں کو) کیمپوں میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے رہنے یا ایرانی معافی سے فائدہ اٹھانے اور وہاں واپسی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا موقع دیں۔

انھوں نے کہا کہ عراقی وفد نے اربیل میں ایرانی قونصل خانے کے نمائندوں کے علاوہ ایرانی، عراقی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا ہے کہ وہ ان مقامات کا دورہ کریں اور اس عمل کے دوران میں کیمپ کے مقام پر ہونے والے واقعات کا براہ راست مشاہدہ کریں۔

فواد حسین نے مزید بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ابراہیم رئیسی کے ساتھ ایک اور ملاقات طے ہے۔

کویت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی اور کویت کے وزیراعظم احمد نواف الاحمد الصباح کے درمیان نیویارک میں ملاقات کی کوشش کی جائے گی تاکہ خور عبداللہ آبی شاہراہ تک رسائی کے بارے میں صورت حال کو واضح کیا جاسکے۔یہ دریا خلیج میں عراق کا واحد داخلی راستہ ہے، جس کے ذریعے اس کی زیادہ تر تیل کی برآمدات اور درآمدشدہ سامان بھیجا جاتا ہے۔

اس سے قبل عراق اور کویت کے درمیان سمندری سرحد کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے خورعبداللہ تک مشترکہ رسائی حاصل کی تھی۔اس معاہدے میں دریا کے وسط میں ایک لکیر کھینچی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ہر ملک اس حصے پر اپنی خودمختاری کا استعمال کرے گا جو ان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ غیرمنصفانہ ہے اور کویت کو خورعبداللہ کے کسی بھی حصے کو کنٹرول کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور یہ تاریخی طور پر عراق کا حصہ تھا۔واضح رہے کہ سنہ 2013 میں عراقی پارلیمنٹ نے مشترکہ آبی گذرگاہ کے معاہدے کو سادہ اکثریت سے منظور کیا تھا۔

تاہم رواں ماہ کے اوائل میں عراق کی وفاقی سپریم کورٹ نے 2012 کے معاہدے کی توثیق کرنے والے قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ججوں نے 2013 کا قانون غیر آئینی قرار دیا اور اسے سادہ اکثریت کے بجائے عراقی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔

فوادحسین نے کہا:’’وفاقی عدالت ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کے فیصلے اسی آزادی سے پیدا ہوتے ہیں۔تاہم اس کے فیصلوں اور بالخصوص اس فیصلے پر تمام پہلوؤں یعنی قانونی اور سیاسی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ معاہدے پر نظر ثانی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کا صحیح طریقہ بات چیت ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے اور اس موضوع پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری پالیسی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امتیازی تعلقات استوار کرنے میں مضمر ہے۔اگر مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ہمارے پاس مذاکرات کے سوا ان پر قابو پانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔انھوں نے مسئلہ کے پُرامن حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ عراقی حکومت اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ خصوصی تعلقات سے لطف اندوز ہونا اس کی ترجیح ہے،بالخصوص ان ممالک کے ساتھ جن کے ساتھ وہ جنگوں اور تنازعات کے دور سے گزرچکی ہے۔اگر اس وقت مسائل پیدا ہوتے تھے اور اب کچھ مسائل موجود ہیں تو میرا ماننا ہے کہ انھیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عراقی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی پالیسی غیر متشدد ہے کیونکہ ہمارا ان پرانی پالیسیوں کی جانب لوٹنے کا کوئی ارادہ نہیں جو دفن ہوچکی ہیں۔ ہم تمام مسائل مذاکرات اور صرف مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔

فواد حسین نے تسلیم کیا کہ عراق کو اندرونی اور اپنے ہمسایوں دونوں کے ساتھ مسائل کا سامنا ہے۔اندرونی مسئلہ عراق میں پی کے کے (کردستان ورکرز پارٹی) کی موجودگی ہے، جبکہ عراقی آئین عراقی سرزمین پر ایسے کارندوں یا آلہ کاروں کی موجودگی اور کسی پڑوسی ملک کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم عراقی آئین پر ہم عمل کرتے ہیں۔ تاہم، یہ معاملہ 1991 یا 1992 سے ہے۔ یہ ہمسایہ ملک ترکیہ کو فوجی مداخلت اور عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا حق نہیں دیتا ہے۔ایک بار پھر ترکیہ کے حوالے سے ہم مسلسل بات چیت کر رہے ہیں اور ہم (ترک) وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں