سعودی عرب سے 2024 کے اوائل تک معمول کے تعلقات کا فریم ورک معاہدہ ممکن ہے:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے امریکا کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدہ اگلے سال کے اوائل تک ممکن ہے۔

اسرائیل اورسعودی عرب کے درمیان معمول کے تعلقات کا مجوزہ معاہدہ مشرقِ اوسط میں امریکا کے دو اہم شراکت داروں کو اکٹھا کردے گا اور ایران کے مقابلے میں امریکا کے ان دواہم اتحادیوں سے خطے کی سیاسی طور پرتشکیلِ نو ہوگی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین یتن یاہو کے ساتھ ملاقات کی اور سعودی عرب اور اسرائیل بات چیت کے امکانات کے بارے میں خوش امیدی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ہر روز ہم ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ بعض دیرینہ اور بعض نئے مسائل بھی منڈلا رہے ہیں۔ الریاض اپنے سویلین جوہری پروگرام کو ترقی دینا چاہتا ہے اور یہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسی کا ایک امتحان ہوگا۔نیز سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے فلسطینیوں سے کسی بھی معاہدے کے تحت فائدہ اٹھانے کے مطالبے نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے ناقابل قبول ہیں۔

وزیر خارجہ ایلی کوہن نے اسرائیلی آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خلا کو پر کیا جا سکتا ہے۔ "اس میں وقت لگے گا لیکن اس میں پیش رفت ہوئی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس بات کا امکان ہے کہ 2024 کی پہلی سہ ماہی میں چار یا پانچ ماہ بعد ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ سکیں گے جہاں معاہدے کی تفصیل کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

اس طرح کی ٹائم لائن بائیڈن انتظامیہ کو امریکی کانگریس اور سینیٹ میں نظرثانی کا وقت دے سکتی ہے اور اسے آیندہ سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل توثیق حاصل کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں