ایران کا بغداد سے ایرانی کرد عسکریت پسندوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے کہا ہے کہ کردستان کے علاقے اور باقی عراق میں ایرانی کرد مسلح اپوزیشن کی موجودگی برداشت نہیں کی جائےگی۔

العالم ٹی وی کے مطابق باقری نے کہا کہ مسلح دہشت گرد علیحدگی پسند قوتوں کو مکمل طور پر غیر مسلح اور پورے عراق سے نکال باہر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ابراہیم رئیسی نے ہم سے صبر کی درخواست کی اور چند دنوں کی ڈیڈ لائن دی اور ہم انتظار کریں گے۔"

ایران نے عراق اور عراقی کردستان کی علاقائی حکومت کے لیے خطے میں سرگرم تہران مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے 19 ستمبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔

عراق اور ایران کے درمیان مشترکہ سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد کی سپریم کمیٹی نے منگل کے روز دونوں ممالک کی سرحدوں کے قریب ایرانی اپوزیشن گروپوں کے ہیڈ کوارٹر کو مستقل طور پر خالی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بغداد نے عراقی کردستان کی علاقائی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے زمینی اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں