’’شرق اوسط امن عمل بحالی کی کوششیں خطے کے استحکام میں معاون ہوں گی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی کابینہ نے امید ظاہر کی ہے کہ’’امن عمل کی بحالی کی کوششیں مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کے حصول میں معاون ثابت ہوں گی‘۔

مملکت کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’’ایس پی اے‘‘کے مطابق کابینہ نے نیوم میں ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت اجلاس میں 13 فیصلوں کی منظوری دی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے 93 ویں یوم وطنی کی موقع پر سعودی عرب کے لیے نیک خواہشات کے اظہار پر برادر اور دوست ممالک کے فرمانرواؤں، سربراہوں اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔

سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد بتایا کابینہ نے خواہش ظاہر کی کہ’ سعودی عرب مشرق وسطی امن عمل میں تیزی لانے کےلیے کوششوں کا حصہ بننا چاہتا ہے‘۔

’سعودی عرب، عرب لیگ اور یورپی یونین نے مصر اور اردن کے تعاون سے امن فارمولا پیش کیا تاکہ 1967 والی سرحدوں کے دائرے میں خود مختار فلسطینی ریاست قائم ہو سکے۔ اس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ عرب امن فارمولے اور بین الاقوامی قانون کے فیصلوں کی روشنی میں مشرق وسطی میں امن واستحکام بحال ہو‘۔

کابینہ نے ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جنرل کانگریس کے سامنے پیش کردہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ’ سعودی عرب ایٹمی ٹیکنالوجی کو بنی نوع انساں کی فلاح و بہبود کی خاطر بین الاقوامی تعاون کا فروغ چاہتا ہے۔ ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو ضروری سمجھتا ہے‘۔

کابینہ نے سعودی الجزائری اعلی رابطہ کونسل کے قیام کے معاہدے، ریلوے منصوبے سے متعلق کویت کے ساتھ معاہدے اور جدہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے انتظامی ضوابط کی بھی منظوری دی۔ زراعت کے شعبے میں الجزائر کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بات چیت کا اختیار وزیر ماحولیات و پانی و زراعت کو دیا گیا۔

کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں سیشن کے دوران کثیر فریقی اجلاسوں میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ’اس سے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول، بین الاقوامی چیلنجوں، خطے کے بحرانوں اور مسائل کے حل کے حوالے سے مسلسل کوششوں اور اقوام عالم کے لیے امن و سلامتی کے فروغ کے حوالے سے سعودی عرب کا موثر کردار اجاگر ہوا ہے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں