کوسوو کی نمائش میں سعودی فنکارہ کا یقین، ثقافت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غدیر حافظ کے ہاں سیاہ اور سفید پینٹنگز پر نیلے رنگ کے ہلکے اشارے ہیں جو اس 'امید' کی عکاسی کرتے ہیں جو خدا کی طرف عاجزانہ رجوع کرتے وقت ملتی ہے۔

سعودی عرب کی غدیر حافظ کا کہنا ہے کہ کوسوو میں ان کے فن پاروں کی حالیہ نمائش ان کے اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ ایمان کسی کی زندگی میں توازن، معنی اور پاکیزگی کو دوبارہ واپس لا سکتا ہے۔

ان کا کام یورو کوسوو انٹرنیشنل آرٹ فیسٹیول میں 22 سے 29 ستمبر تک زیرِ نمائش تھا جس میں "کوسوو میں میری تخلیقی دنیا" کے عنوان کے تحت 20 ممالک کے 30 نامور فنکاروں کا کام کی نمائش کی گئی تھی۔

حافظ سعودی عرب کی واحد فنکارہ تھیں جنہیں کوسوو کی وزارتِ ثقافت نے میلے میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔

عرب نیوز کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا: "میں دنیا بھر میں بین الاقوامی فنکارانہ فورمز میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کی بہت خواہش مند ہوں اور ایک سعودی شہری اور بصری فنکارہ کے طور پر اپنے ملک کے لیے میں اسے اپنے فرض کا ایک لازمی حصہ سمجھتی ہوں۔"

اپنے تازہ ترین کام میں حافظ نے سابقہ انداز— جس میں زندگی کی رونق کی عکاسی کرنے والے جوشیلے رنگ نمایاں ہوتے تھے — سے الگ ہو کر بڑی حد تک سیاہ اور سفید پینٹنگز پر نیلے رنگ کے ہلکے اشارے پینٹ کیے ہیں۔

"ہم بعض اوقات الجھن کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن جب ہم خدا کی طرف لوٹتے ہیں تو خود کو حآصل کر لیتے ہیں۔ کام سیاہ اور سفید دو رنگوں میں کیا گیا تھا کیونکہ یہ اس نفسیاتی کیفیت کے درمیان فرق کرتا ہے جس کا تجربہ انسان کو تب ہوتا ہے جب وہ اپنے دل کو خدا کے ساتھ بلند کرتا ہے اور تھوڑا۔۔۔ نیلا رنگ زندگی میں امید کا اظہار ہے۔"

"میرے فنی کاموں کا مقصد انسان ہے اور یہ کہ کیسے خدا اس کی نگہداشت کرتا ہے۔"

حافظ کا یہ بھی یقین ہے کہ ان کا کام سعودی عرب کی ثقافت کا اظہار کرتا ہے جو ان کے بقول زندگی کے تمام شعبوں میں ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں