غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ میں منگل کو فلسطینی صدر محمود عباس سے نکلنے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور فلسطینی سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوگیا۔
غزہ کی پٹی میں ایک ہسپتال کے صحن پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 500 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس حملے کے بعد مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی شہریوں نے احتجاج شروع کردیا۔ فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی۔ یاد رہے رام الہل فلسطینی اتھارٹی کا صدر مقام ہے۔ مظاہرین نے ’’عوام صدر کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں‘‘ اور ’’ نکل جاؤذ‘‘ کے نعرے لگائے۔
غزہ شہر کے ہسپتال ’’الاھلی العربی‘‘ کے صحن پر اسرائیلی حملے میں 500 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ۔ اس ہسپتال کو ’’المعمدانی‘‘ ہسپتال بھی کہا جاتا تھا۔ یاد رہے امریکی صدر بائیڈن نے بھی اسرائیل کے دورے کا اعلان کیا ہے۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے ہسپتال کے صحن میں بمباری میں 500 افراد کے جاں بحق ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں افراد ملبے تلے بھی دب گئے ہیں۔ ہسپتال قتل عام پر مغربی کنارے میں محمود عباس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔
محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اسرائیل کی اس کارروائی کو نسل کشی کا جرم اور ایک انسانی تباہی قرار دیا اور کہا کہ ان اموات کی پوری ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔