فلسطین اسرائیل تنازع

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج الرٹ، پلان بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

7 اکتوبر کو شروع ہونے والے فلسطین ۔ اسرائیل تنازعے کے بڑھتے ہوئے خدشات کےجلو میں خطے میں متعدد "ایرانی حمایت یافتہ" ملیشیاؤں کے حرکت میں آنے کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اضافی فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے کہا ہے کہ وہ خطے میں اپنی افواج پر حالیہ حملوں کے جواب میں ایک ’تھاڈ‘ فضائی دفاعی نظام اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی اضافی بٹالین مشرق وسطیٰ بھیجے گا۔

دریں اثنا سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کے روز ایک بیان میں وضاحت کی کہ ایران کی طرف سے حالیہ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کے پورے خطے میں اس کی جانب سے کام کرنے والی فورسز کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ وسیع بات چیت کے بعد انہوں نے دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اسرائیل کی مدد

ان اضافی اقدامات کے بارے میں لائیڈ آسٹن نے کہا کہ ان میں "ڈوائٹ آئزن ہاور طیارہ بردار جنگی بیڑے کو سینٹرل کمانڈ کے ذمہ دار علاقے میں منتقل کرنا، ڈیٹرنس کی کوششوں کو مضبوط بنانے، خطے میں امریکی افواج کے تحفظ کو بڑھانے اور اسرائیل کے دفاع میں مدد کرنا شامل ہے۔ "

اس میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں واقع طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کے جنگی گروپ کی تعیناتی بھی شامل تھی۔ امریکی افواج کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں بھئ نصب کی جائیں گی۔

اس میں ہنگامی منصوبوں کے فریم ورک کے اندر تعیناتی کے لیے تیاری کے لیے فورسز کی غیر متعینہ تعداد کو رکھنا بھی شامل ہے۔

حاملة طائرات أميركية (أسوشييتد برس)
حاملة طائرات أميركية (أسوشييتد برس)

ایران کے اتحادی

یہ امریکی انتباہ گذشتہ دنوں عراق میں تعینات امریکی اڈوں اور فورسز پر حملے کی متعدد کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ مسلح دھڑوں نے گذشتہ عرصے کے دوران تقریباً 4 بار مغربی عراق کے شہر الانبار میں عین الاسد کے اڈے کو نشانہ بنایا۔

عراقی مسلح گروپ (عراقی مزاحمتی موومنٹ) نے بھی گذشتہ گھنٹوں کے دوران اربیل ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس سے قبل بغداد ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر بھی امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے دھمکی دی کہ اگر فیلڈ ڈیٹا کی ضرورت پڑی تو وہ اسرائیل فلسطین تنازعہ میں داخل ہو جائے گا۔ یہ دھمکی حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپوں کی شدت کے بعد سامنے آئی ہے

دونوں فریقوں کے درمیان اتوار کو دوبارہ گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ حزب اللہ لبنان کو جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں شام تہران کے ساتھ اتحادی دھڑوں کی کچھ نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی ہے۔کل ہفتے کے روز اسرائیل نے دمشق اور حلب کے ہوائی اڈوں پر بمباری کی تھی۔

پینٹاگان کے ترجمان پیٹ رائڈر نے بھی گذشتہ جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ شام اور عراق میں امریکی افواج کو کئی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں