’آپ نے چھوڑا ہی کیا جس پرایٹم بم گرانا ہے‘‘؟ غزہ کے باشندوں کا اسرائیلی وزیر کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"ہم پر ہر روز جوہری ہتھیاروں سے بمباری کی جاتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں چھوڑا ہی کیا ہے۔ ہم پر ایٹم بم سے بڑے تباہ کن ہتھیاروں سے بمباری کی جاتی ہے"۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو اسرائیلی وزیر ثقافت ’امیچائی الیاھو‘ کے غزہ کی پٹی پر ایٹمی حملے کی دھمکی کے رد عمل میں غزہ کےہر فلسطینی کی زبان پر ہیں۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے ایک بیان میں غزہ کے دو ملین لوگوں پر ایٹم بم گرانے کی بات کی تھی۔

شمالی غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ ’’انھوں [اسرائیلیوں] نے ہم پر جوبم پھینکے وہ جوہری بم سے بھی بڑے تھے‘‘۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ عمارتوں اور گلیوں میں کچھ بھی نہیں بچا۔ وہ ہمیں پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں۔ اب کچھ بھی نہیں بچا، تمام گلیاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں"۔

جوہری حملے سے بھی بدتر

ایک اور شخص نے کہا کہ "اسرائیل ہر روز جوہری ہتھیار سے بھی بدتر بموں سے ہم پر حملہ کرتا ہے"۔ رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا "ہر روز، پرتشدد بمباری کے نتیجے میں 400 افراد شہید ہو جاتے ہیں"۔

انہوں نے استفسار کیا کیا غزہ اتنا مضبوط ہے کہ اتنے بموں کو برداشت کر سکے؟ انہوں نے مزید کہا کہ تباہی کو دیکھو، ہم پر روزانہ ایٹمی ہتھیاروں سے بمباری کی جا رہی ہے‘‘۔

ایک بوڑھے آدمی نے کہا غزہ میں ہونے والی تباہی کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ "یہ جنگ نہیں ہے، بلکہ سب فنا کرنے والی قیامت ہے"۔

الیاہو کے بیانات نے ہرطرف غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔ عرب ممالک اور دنیا بھر میں ان کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ سخت تنقید کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے اسے معطل کردیا۔

دریں اثنا انتہائی دائیں بازو کی اوٹزما یہودیت پارٹی سے وابستہ انتہا پسند وزیر نے بعد میں واضح کیا کہ ان کے الفاظ "محض ایک استعارہ" تھے۔

تاہم الیاھو کے متنازع بیانات کے باوجود غزہ کی حقیقت کسی بھی جوہری بم کے اثرات سے زیادہ مختلف نہیں۔ غزہ کے مکینوں کےمطابق بمباری میں 60 فی صد سے زیادہ عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق اس کے زیادہ تر ہسپتال تباہی کے دہانے پر ہیں۔

جب کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک مرنے والوں کی تعداد تقریباً 10,000 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں