فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کے پاس غزہ پر جوہری بم پھینکنے کی آپشن، امریکہ نے بھی مذمت کردی

'بیان قابل قبول نہیں' نائب ترجمان امریکی دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے اسرائیلی کابینہ کے رکن کی طرف سے غزہ کو ہیروشیما اور ناگا ساکی کی طرح جوہری بم کا نشانہ بنانے کے دھمکی نما عندیہ کی مذمت کی اور کہ یہ بیان جو ایک جونئیر وزیر کی طرف سے آیا ہے 'مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ '

امریکہ کے دفتر خارجہ کے نائب ترجمان وینڈنت پٹیل نے اس معاملے پر ایک مختصر مگر جامع بیان دیا ہے جس میں امریکہ کی طرف سے نیتن یاہو کابینہ کے رکن اور جیوش نیشنل فرنٹ سے تعلق رکھنے والے بیان میں کہا ہے ' ہم متواتر یہ یقین رکھتے ہیں کہ تصادم کے تمام فریقوں نفرت انگیز انداز بیان سے گریز کرنا چاہیے۔ '

واضح رہے پچھلے دنوں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے ایک رپورٹ میں کہا گا تھا کہ اسرائیل نے غزہ اور لبنانی سرحد کے نزدیک فاسفورس بموں کا استعمال کیا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں ابھی تک کسی متعلق عالمی ادارے نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔

البتہ یہ خوش آئند ہے کہ غزہ میں جوہری بم استعمال کرنے کی ' آپشن ' کے موجود ہونے کے بارے میں اسرائیلی کابینہ کے ایک رکن کے کھلے عام بیان پر امریکہ نے بھی مذمت کر دی ہے۔ یقیناً جوہری بم کی تباہی کی اصل کہانی امریکہ بہتر جانتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ملک جوہری بم کے زخموں کو سمجھتا ہے تو وہ جاپان ہے جس کے شہریوں پر یہ جوہری بم گرائے گئے تھے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز اپنی کابینہ کے اس رکن کو ضابطے کے تحت لانے کی بات کی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں اسرائیل کی اس بارے میں مذمت جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں