حوثی ملیشیا آبی ٹریفک اور نقل وحمل کو خطرے میں ڈالنے سے بازرہے: جی سیون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تجارتی مال بردار جہاز کو ہائی جیک کرنے اور ایک امریکی ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے یمن میں حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری نقل و حمل کو دھمکیاں دینے اور سمندری سرگرمیوں کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہیں۔ انہوں نے بحیرہ احمر سے یرغمال بنائے گئے ایک مال بردار بحری جہاز کو فوری طور پرچھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

وزراء خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ "ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام بحری جہازوں کے حقوق اور نیویگیشن کی آزادیوں کے قانونی استعمال میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں"۔

انہوں نے خاص طور پر حوثیوں سے شہریوں پر حملوں اور بین الاقوامی شپنگ لین اور تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو فوری طور پر بند کرنے اور 19 نومبر کو بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر قبضے میں لیے جانے والے جہاز Galaxy Leader اور اس کے عملے کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ حوثی گروپ نے اس تجارتی بحری جہاز کو اپنے 25 ارکان کے عملے کے ساتھ ایک حملے میں قبضے میں لے لیا تھا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے جواب میں یرغمال بنایا تھا۔

ایک اسرائیلی تاجر کی ملکیت گلیکسی لیڈر جہاز کو ہائی جیک کرنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ترکیہ سے بھارت جا رہا تھا۔ بحیرہ احمر میں جہازسے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں