تجارتی مال بردار جہاز کو ہائی جیک کرنے اور ایک امریکی ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے یمن میں حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری نقل و حمل کو دھمکیاں دینے اور سمندری سرگرمیوں کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہیں۔ انہوں نے بحیرہ احمر سے یرغمال بنائے گئے ایک مال بردار بحری جہاز کو فوری طور پرچھوڑنے کا مطالبہ کیا۔
وزراء خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ "ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام بحری جہازوں کے حقوق اور نیویگیشن کی آزادیوں کے قانونی استعمال میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں"۔
انہوں نے خاص طور پر حوثیوں سے شہریوں پر حملوں اور بین الاقوامی شپنگ لین اور تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو فوری طور پر بند کرنے اور 19 نومبر کو بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر قبضے میں لیے جانے والے جہاز Galaxy Leader اور اس کے عملے کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔
On Nov. 26, the USS MASON (DDG 87), with allied ships from our coalition counter-piracy task force (TF 151), and associated aircraft responded to a distress call from the M/V CENTRAL PARK, a commercial vessel, that they were under attack by an unknown entity. Upon arrival,… pic.twitter.com/ASmM3b0xrf
— U.S. Central Command (@CENTCOM) November 27, 2023
خیال رہے کہ حوثی گروپ نے اس تجارتی بحری جہاز کو اپنے 25 ارکان کے عملے کے ساتھ ایک حملے میں قبضے میں لے لیا تھا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے جواب میں یرغمال بنایا تھا۔
ایک اسرائیلی تاجر کی ملکیت گلیکسی لیڈر جہاز کو ہائی جیک کرنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ترکیہ سے بھارت جا رہا تھا۔ بحیرہ احمر میں جہازسے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
-
اسرائیلی فوجیوں کے تبادلے کے لیے حماس کی کیا شرائط ہیں؟
غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی کی تیسری توسیع کے بارے میں بات چیت ...
مشرق وسطی -
اسرائیل غزہ میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی لاشیں اٹھانے سے روک رہا ہے: ہلال احمر
فلسطینی ہلال احمر نے بدھ کے روز اسرائیل پر الزام لگایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی ...
مشرق وسطی -
حماس جنگ کے بعد غزہ پر حکومت نہیں کرسکتی:یورپی کمیشن
اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی پر جنگ دوبارہ ...
مشرق وسطی