شام کے شہر دمشق کے قریب اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے دو حامی مزاحمت کار جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک جنگی نگران نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں شام سے تعلق رکھنے والے حزب اللہ کے دو حامی مزاحمت کار جاں بحق ہو گئے جب اسرائیل نے ہفتے کی صبح دمشق کے قریب ایرانی حمایت یافتہ گروپ سے تعلق رکھنے والے مقامات کو نشانہ بنایا۔

دمشق کے قریب یہ حملے حزب اللہ کی اتحادی حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی ختم ہونے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہوئے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے کہا، "سیدہ زینب کے قریب حزب اللہ کے مقامات پر اسرائیلی فضائی حملوں میں حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے دو شامی مزاحمت کار شہید اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔"

2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے اپنے شمالی ہمسایہ پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر ایرانی حمایت یافتہ افواج اور لبنانی حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی پوزیشنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

لیکن اکتوبر میں حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ حماس نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اس نے شام کی حکومت کے ساتھ تعلقات بحال کر لیے تھے۔

شام کے اندر خبری ذرائع کا نیٹ ورک رکھنے والے برطانوی مانیٹرنگ کے سربراہ نے قبل ازیں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے دمشق کے جنوب میں سیدہ زینب کے علاقے میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔

شام کی وزارتِ دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل نے شامی دارالحکومت کے قریب حملہ کیا اور دمشق میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے بم دھماکوں کی بلند آواز کی اطلاع دی۔

وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، "آج تقریباً 1:35 بجے (2235 جی ایم ٹٰی) اسرائیلی دشمن نے مقبوضہ شام کے گولان کی سمت سے فضائی حملہ کیا جس میں دمشق شہر کے قریب کچھ مقامات کو نشانہ بنایا گیا" لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے "دارالحکومت کے قریب اسرائیلی جارحیت" کی اطلاع دی تھی۔

اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

آبزرویٹری نے کہا تھا کہ 8 نومبر کو دمشق کے قریب اسی علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے میں تین ایران نواز مزاحمت کار شہید ہو گئے جب اسرائیل نے لبنانی گروپ سے تعلق رکھنے والے مقامات کو نشانہ بنایا۔

ایک ماہ قبل اسی طرح کے حملے کے بعد دمشق کے ہوائی اڈے سے پروازیں بند ہو گئی تھیں جن کے دوبارہ شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی 26 نومبر کو اسرائیلی فضائی حملوں نے اسے ناکارہ بنا دیا۔

12 اور 22 اکتوبر کو اسرائیلی حملوں کے بعد دمشق اور حلب دونوں کے ہوائی اڈے ناکارہ ہو گئے تھے۔

اسرائیل شام کو نشانہ بنانے والے انفرادی حملوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کرنے والے سخت دشمن ایران کو وہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

حزب اللہ دمشق کی اتحادی ہے اور طویل عرصے سے ملک کی جنگ میں اسد کے شانہ بشانہ لڑتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں