بل گیٹس کی جوہری توانائی کمپنی اور امارات کے درمیان معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بل گیٹس کی جوہری توانائی کمپنی ' ٹیرا پاور ایل ایل سی ' کے درمیان پیر کے روز ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے اماراتی کمپنی ' ای این ای سی ' نے دستخط کیے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے کی رو سے 'ای این ای سی ' امارات کے اندر اور امارات سے باہر جوہری ری ایکٹرز کی تیاری و استعداد اور ترقی کے حوالے سے اپنے لیے تحقیق و جستجو کا اہتمام کرے گی ۔ بل گیٹس کی ٹیرا پاور کمپنی امارات کو اس مقصد کے لیے اپنی مہارت اور خدمات سے استفادے کا موقع دے گی۔

مفاہمتی یادداشت کے سامنے آنے کا باعث ' سی او پی 28 ' کے دوران امارات میں جوہری توانائی کے فروغ بارے میں بحث بنی ہے۔ موسمیاتی کانفرنس کے دوران 20 سے زیادہ ممالک نے موسمیاتی تبدیلوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنی جوہری توانائی کے امکانات کو تین گنا تک بڑھانے کا عہد کیا ہے۔

امارات کی جوہری توانائی کمپنی کے سربراہ محمد الحمادی نے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب میں کہا' ہے ہم متحدہ عرب امارات کے لیے صاف اور الیکٹرانز اور مالیکیولز کی تلاش میں ہیں، جس کے نتیجے میں جدید ری ایکٹرز سے استتفادے کا موقع ملے گا۔ '

ٹیرا پاور کمپنی کے سربراہ کرس لیوسک نے اس موقع پر کہا ' جدید جوہری توانائی سے متعلق ٹیکنالوجیز کو مارکیٹ میں سامنے لانا کاربن کے خاتمے کے اہداف کے لیے ضروری ہے۔ '

واضح رہے متحدہ عرب امارات کے پاس اس وقت ایک روایتی پاور پلانٹ ہے۔اس جوہری پلانٹ نے 2020 میں پیداوار دینا شروع کر دی تھی۔ دبئی ' سی او پی 28' کے انعقاد کا ماحول میں یہ بڑا' بریک تھرو ' ہے تاکہ ممالک اپنے توانائی منصوبوں کو جدید بناتے ہوئے کاربن کے پھیلاؤ سے بھی پاک ماحول کو آگے بڑھائیں۔

اس معاہدے کے ہونے کے بعد جس مسئلے کا کچھ دیر تک سامنا رہ سکتا ہے وہ ایک خاص معیار کی یورینیم کا حصول ہے۔ اس یورینیم کی فراہمی کے لیے روس اہم ملک ہے ۔ لیکن روس پر کئی قسم کی پابندیاں عائد ہیں۔ بتایا گیا ہے ٹیراپاور کمپنی کی ٹیکنالوجی کا بڑا انحصار روسی فراہم کردہ یورینیم کے حوالے سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں