فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی کوشش کر رہا ہے : ایمن صفادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردنی وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے باہر دھکیلنے کے لیے جنگ کو ایک پالیسی کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس طرح فلسطینیوں کو مارا جا رہا ہے یہ نسل کشی کی ہر قانونی تعریف کے مطابق ہے۔

ایمن صفادی نے اس امر کا اظہار اتوار کے روز دوحہ کانفرنس کے دوران کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل نے جس طرح نفرت اور اشتعال کی فضا پیدا کر دی ہے اس سے پورے خطے اور نئی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

واضح رہے سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ اب تیسرے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 17 ہزار سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جن میں شہید ہونے والی خواتین اور فلسطینی بچوں کی تعداد 70 فیصد سے زائد بتائی جاتی ہے۔ جبکہ 19 لاکھ کے قریب فلسطینی غزہ میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہسپتال تباہ حال اور خوراک کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اردن کے وزیرخارجہ نے دوحہ میں کانفرنس سے خطاب میں کہا ' ہم دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں محض سادہ سی قتل و غارتگری نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ایک منظم انداز میں جاری رکھی گئی نسل کشی ہے، جس کا فلسطینیوں کو سامنا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے انہیں غزہ کے میدان جنگ سے کسی دوسری جگہ چلے جانے کا کہہ رہے ہیں، یہ ان کے اپنے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ جو لوگ ہم پر فلسطینیوں کو جبری نکالنے کا الزام لگاتے ہیں وہ محض ایک اشتعال انگیز الزام لگاتے ہیں۔

ایمن صفادی نے کہا ' اسرائیل کا یہ کہنا کہ وہ حماس کو تباہ کرے گا تو اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ غزہ میں موجود عام شہریوں کو بھی تباہ کرنے تک جائے گا۔ عرب وزرائے خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران ان کے بقول بلینکن نے اسرائیل کو جنگی اسلحہ دینے اور جنگ بندی کی حمایت سے انکار کیا توکافی زیادہ اختلاف سامنے آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں