اردن کی فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے شام کی سرحد کے ساتھ مسلح منشیات فروشوں کے ساتھ صبح سویرے جھڑپوں کے بعد اسلحہ اور منشیات قبضے میں لے لی ہیں اور حکام نے کہا کہ مسلح افراد کا تعلق ایران نواز ملیشیا سے تھا جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔
فوج نے کہا کہ درانداز کئی فوجی اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد سرحد پار واپس بھاگ گئے تھے۔ اور مزید کہا کہ ضبط شدہ ہتھیاروں میں خودکار رائفلیں اور راکٹ شامل تھے۔
اردنی حکام اپنے مغربی اتحادیوں کی طرح کہتے ہیں کہ منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں اضافے کے پیچھے لبنان کا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ اور ملیشیا ہے جو جنوبی شام کے زیادہ تر حصے پر قابض ہے۔
حزب اللہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ ایران کہتا ہے کہ یہ الزامات ملک کے خلاف مغربی سازشوں کا حصہ ہیں۔
فوج نے ایک بیان میں کہا، "گزشتہ چند دنوں میں ان کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو دراندازی کی کوششوں اور اسمگلنگ سے مسلح جھڑپوں میں تبدیل ہو رہے ہیں جس کا مقصد طاقت کے ذریعے سرحد پار کرنا اور سرحدی محافظوں کو نشانہ بنانا ہے۔"
فوج نے کہا کہ وہ "ان مسلح گروہوں کا سراغ لگانا اور مملکت کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو روکنا جاری رکھے گی"۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور امریکی حکام نے کہا ہے کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت شام میں ایران نواز ملیشیا اور حکومت نواز نیم فوجی دستوں کے پھیلاؤ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے جو ایک عشرے سے زائد عرصے سے جاری تنازعے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔