غزہ جنگ : 17روز قبل پیدا ہونے والی فلسطینی بچی اسرائیلی حملے میں بھائی کےساتھ جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وہ جنگ کے دوران جنوبی غزہ شہر کے ایک بجلی سے محروم ہسپتال میں جس پر روزانہ بمباری ہوتی ہے، پیدا ہوئی۔ خاندان نے اس کا نام الامیرہ عائشہ رکھا یعنی "شہزادی عائشہ۔" اس نے مرنے سے پہلے اپنی زندگی کا تیسرا ہفتہ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ منگل کو اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئی جس میں اس کا خاندانی گھر مسمار ہو گیا۔

بچے کی دادی اور دھماکے میں زندہ بچ جانے والی سوزان زوراب نے بتایا کہ جب حملے میں رفح میں ان کے اپارٹمنٹ کی عمارت طلوعِ فجر سے پہلے مسمار ہو گئی تو ان کا خاندان سو رہا تھا۔ ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ امیرہ اور اس کا 2 سالہ بھائی احمد جاں بحق ہونے والے 27 افراد میں شامل تھے۔

بچی کی دادی سوزان نے اپنے بیٹے کے بستر کے قریب بیٹھے ہوئے کانپتی ہوئی آواز میں بتایا، "وہ صرف 2 ہفتے کی تھی۔ اس کا نام بھی درج نہیں کیا گیا تھا۔" بچی کا باپ بھی حملے میں زخمی ہوا تھا۔

یہ خاندانی سانحہ اس وقت پیش آیا جب وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 20,000 کے قریب ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے ڈھائی ماہ سے محصور غزہ کے انکلیو پر مسلسل گولہ باری کی ہے جس کے فضائی حملوں میں زیادہ تر افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور اکثر گھر کے اندر موجود خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔

یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب غزہ پر حکمرانی کرنے والے حماس اور دیگر گروپوں نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں داخل ہو کر تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے اور 240 دیگر افراد کو اغوا کر لیا۔

زوراب خاندان غزہ کے ان چند فلسطینیوں میں شامل تھا جو اپنے گھروں میں ہی رہے۔ 21 ویں صدی کے تباہ کن ترین اسرائیلی حملوں نے تقریباً 1.9 ملین افراد کو بے گھر کر دیا ہے جو علاقے کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی ہے۔ اور انہیں اقوامِ متحدہ کے سکولوں، ہسپتالوں، خیمہ بستیوں یا سڑکوں پر پناہ کی تلاش میں بھیج رہے ہیں۔

لیکن زواراب اپنے تین منزلہ اپارٹمنٹ کی عمارت میں ٹھہرے رہے۔ سوزان کے دو بیٹوں کے اپارٹمنٹس بالائی منزل پر تھے لیکن باقی خاندان گراؤنڈ فلور پر ایک ساتھ جمع تھا اس یقین سے کہ یہ زیادہ محفوظ ہوگا۔ جب حملہ ہوا تو زوراب خاندان کے کم از کم 13 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں ایک صحافی عدیل اور ساتھ ہی اردگرد کے پناہ گزین بے گھر افراد بھی شامل تھے۔

سوزان نے کہا، "ہم نے دیکھا کہ پورا گھر ہمارے اوپر گرا ہوا تھا۔" امدادی کارکنوں نے انہیں اور دیگر زندہ اور جاں بحق متأثرین کو ملبے سے نکالا۔

اسرائیل کہتا ہے کہ وہ پورے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر حملہ کر رہا ہے اور شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار مزاحمت کاروں کو قرار دیتا ہے کیونکہ وہ رہائشی علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ لیکن یہ شاذ و نادر ہی مخصوص حملوں کے پیچھے اپنے ہدف کی وضاحت کرتا ہے۔

سوزان نے کہا۔ امیرہ عائشہ کی عمر صرف 17 دن تھی۔ وہ 2 دسمبر کو رفح کے اماراتی ریڈ کریسنٹ ہسپتال میں پیدا ہوئی تھی جبکہ وہاں بجلی نہیں تھی - اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں قصبے پر اور غزہ کے باقی حصوں میں بمباری دوبارہ شروع ہو گئی۔

سوزن نے کہا، "وہ بہت مشکل حالات میں پیدا ہوئی تھی۔"

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ پیر تک غزہ کی پٹی میں 36 ہسپتالوں میں سے 28 کے سروس سے قاصر ہونے کی اطلاع ملی جبکہ صحت کی باقی آٹھ سہولیات صرف جزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ تباہی کے درمیان تقریباً 50,000 فلسطینی خواتین حاملہ ہیں۔

شہزادی عائشہ اور احمد کے والدین بچ گئے — ان کی والدہ ملک کے چہرے پر جلنے اور زخموں کے نشانات ہیں اور ان کے والد محمود کو کمر میں زخم آئے۔ جس وقت محمود رفح کے کویتی ہسپتال میں اپنے بستر پر لیٹا تھا، سوزان ان دونوں بچوں کو تدفین سے پہلے آخری دیدار کے لیے لے آئیں۔

محمود درد سے تڑپ رہا تھا جب وہ سفید کفن میں لپٹے احمد کو اٹھانے کے لیے اٹھ کر بیٹھا۔ پھر وہ روتے ہوئے دوبارہ بستر پر گر گیا۔ اس کی بیوی نے سفید کفن میں لپٹی شہزادی عائشہ کو بھی اس کے قریب کر دیا۔

شہزادی عائشہ، احمد اور دیگر افراد کو قریبی قبرستان میں سپرد خاک کرنے سے پہلے درجنوں سوگواران نے منگل کی صبح رفح میں اسپتال کے باہر ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔

سوزان نے کہا، "میں اپنے پوتے پوتیوں کی حفاظت نہیں کر سکی۔ میں نے انہیں پلک جھپکتے ہی کھو دیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں