فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی آباد کاروں کا بڑھتا ہوا تشدد، 2023 مغربی کنارے میں 'پرتشدد ترین' سال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک اسرائیلی واچ ڈاگ نے پیر کو کہا کہ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 2023 میں مغربی کنارے میں 520 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جس نے اسے آباد کاروں کے حملوں کے حوالے سے "پرتشدد ترین" سال بنا دیا۔

انسانی حقوق کے ایک گروپ یش دین نے کہا کہ مغربی کنارے کے متعدد حملے اسرائیلی آباد کاروں کے ایک بڑے گروپ کی طرف سے کیے گئے جن میں 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا۔

اسرائیلی آباد کاروں نے 2023 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں درجنوں گھروں کو نذر آتش کر دیا۔

گروپ نے کہا، "گذشتہ سال آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے اور درجنوں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی"۔

"واقعات کی تعداد اور ان کی شدت دونوں میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کے حوالے سے 2023 پرتشدد ترین سال تھا۔"

مغربی کنارہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے اور اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

تقریباً 490,000 آباد کار مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

یش دین نے 2006 میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی نگرانی شروع کی تھی۔

گروپ نے اس دن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جب حماس نے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر مہلک حملوں کا سلسلہ شروع کیا، "7 اکتوبر کے بعد سے پہلے دو مہینے خاص طور پر پرتشدد تھے جس میں یش دین نے 242 آبادکاروں کے تشدد کے واقعات کو دستاویز کیا۔"

نگراں ادارے نے کہا کہ ان واقعات میں سینکڑوں اسرائیلیوں نے فلسطینی دیہاتوں پر یلغار کرتے ہوئے درجنوں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

'اعتماد کی کمی'

رام اللہ میں قائم فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 317 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یش دین نے فوج اور پولیس کے ان دعووں کی تردید کی کہ حالیہ مہینوں میں آباد کاروں کے تشدد میں کمی آئی ہے اور کہا کہ یہ تعداد اسرائیلی حکام کو درج کروائی گئی شکایات میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

گروپ نے کہا کہ دسمبر 2022 میں موجودہ دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بیشتر فلسطینیوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی قانون نافذ کرنے والے حکام پر "اعتماد کی کمی" کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکمران اتحاد جس میں آباد کار اور انتہائی قوم پرست سخت گیر شامل ہیں، نگران ادارے نے اس پر الزام لگایا، "آباد کاروں کا تشدد اسرائیلی حکومت کی پالیسی ہے۔"

مغربی کنارے میں تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھاتے ہوئے گذشتہ ماہ امریکہ نے کہا تھا کہ وہ فلسطینیوں پر حملہ کرنے والے انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کو ویزا دینے سے انکار کر دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں