جنگ سے تباہ حال غزہ شہر کے مرکزی علاقے کے بڑے حصے کو بھاری نقصان پہنچا ہے کیونکہ اسرائیل نے علاقے پر مسلسل گولہ باری کی ہے جس سے بہت سی سڑکیں مکمل طور پر ناقابلِ شناخت ہو گئی ہیں۔
مرکزی فلسطین اسکوائر کے قریب عمارات کی اکثریت کو یا تو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر مسمار ہو گئی ہیں جن کا ملبہ گلیوں میں بکھرا پڑا ہے۔
وسطی غزہ شہر اسرائیل اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔
یہ ان اولین مقامات میں سے ایک تھا جسے اسرائیلی افواج نے اس علاقے پر زمینی دراندازی شروع کرنے کے بعد نشانہ بنایا تھا۔
وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں 22,000 سے زیادہ فلسطینی – جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں – اسرائیلی فائرنگ اور فضائی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے اپنی سرحد پر حماس کے حملے کے جواب میں محصور علاقے پر اپنی جنگ شروع کی۔ اس حملے کے بارے میں اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 240 کو یرغمال بنا لیا گیا۔
بین الاقوامی انسانی تنظیموں اور حقوق کے گروپس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر اپنی بے رحمانہ جنگ بند کرے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے باشندے جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں وہ تباہ کن ہیں۔