سلامتی کونسل حوثیوں سے بحیرۂ احمر کی نقل و حمل پر حملے روکنے کا مطالبہ کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز ایک قرارداد پر ووٹنگ کا وقت مقرر کیا جس میں بحیرۂ احمر کے علاقے میں تجارتی اور سوداگری جہازوں پر یمن کی حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت اور فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

منگل کو تادیر ایسوسی ایٹڈ پریس کے حاصل کردہ امریکی مسودۂ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کم از کم دو درجن حوثی حملے عالمی تجارت میں رکاوٹ ہیں" اور بحری حقوق اور آزادیوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔"

ایرانی حمایت یافتہ حوثی جو 2014 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں، نے کہا ہے کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی تباہ کن فضائی اور زمینی کارروائی کو ختم کرنے کے مقصد سے یہ حملے شروع کیے ہیں۔

یہ جنگ فلسطینی گروپ حماس کے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر اچانک حملے کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 دیگر کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت جو شہریوں اور مزاحمت کاروں میں فرق نہیں کرتی ہے، کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے تین ماہ کے حملے میں 23,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

قرارداد میں مطالبہ کیا جائے گا کہ حوثیوں کے پہلے حملے کا نشانہ بننے والے بحری جہاز گلیکسی لیڈر کو فوری طور پر رہا کیا جائے جسے اس نے 19 نومبر کو عملے سمیت قبضے میں لیا تھا۔ یہ جاپان کے زیرِ انتظام چلنے والا ایک تجارتی بحری جہاز ہے جس کے ایک اسرائیلی کمپنی سے روابط ہیں۔

البتہ عسکریت پسندوں کے حملوں میں نشانہ بنائے گئے بحری جہازوں کے رابطے مزید نازک اور کمزور ہو گئے ہیں کیونکہ حملے جاری ہیں۔

تازہ ترین واقعے میں منگل کو تادیر حوثیوں کی طرف سے ڈرونز اور میزائلوں کی ایک بوچھاڑ نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا حالانکہ امریکہ نے کہا ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

بحیرۂ احمر، شرقِ اوسط اور ایشیا کو نہر سویز اور اس کے تنگ آبنائے باب المندب کے ذریعے یورپ سے جوڑتا ہے۔ تیل کی تمام تجارت کا تقریباً 10 فیصد اور ایک اندازے کے مطابق 1 ٹریلین ڈالر کا سامانِ تجارت سالانہ آبنائے سے گذرتا ہے۔ لیکن حوثیوں کے حملوں نے نقل و حمل کی کئی کمپنیوں کو اس راستے کو نظرانداز کرنے اور افریقہ میں راس امید کے گرد طویل تر اور زیادہ مہنگا راستہ استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکہ کی قیادت میں ممالک کا اتحاد بحیرۂ احمر میں حملوں کو روکنے کی کوشش میں گشت کر رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکہ اور 12 دیگر ممالک نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں حوثی حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ اور خبردار کیا گیا تھا کہ مزید حملوں کے لیے اجتماعی کارروائی کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا، "اگر حوثی خطے کی اہم آبی گزرگاہوں میں زندگیوں، عالمی معیشت اور تجارت کی آزادانہ روانی کو خطرے میں ڈالتے رہیں گے تو نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔"

اگرچہ حوثیوں نے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا ہے لیکن حوثیوں اور یمن کی حکومت کی حمایت میں لڑنے والے عرب کے زیرِ قیادت اتحاد کے درمیان عارضی جنگ بندی اس ملک کی طویل جنگ کے باوجود مہینوں سے جاری ہے۔

اس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ سمندر میں کوئی بھی وسیع تر تنازعہ – یا مغربی افواج کی طرف سے ممکنہ انتقامی حملہ – عرب دنیا کی غریب ترین قوم میں ان کشیدگیوں کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کے ایک کھلے اجلاس میں اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے حوثی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ 13 ممالک کے بیان پر عمل درآمد کریں اور حملے بند کریں۔

لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حوثیوں کے اقدامات کو "غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی" کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور یہ سلامتی کونسل کے لیے یمن کی خانہ جنگی اور اسرائیل-حماس تنازعہ کو ختم کرنے کی کوششوں کو دوگنا کرنے کا بہترین منظرنامہ ہوگا۔

نیبنزیا نے کہا، بحیرۂ احمر میں طاقت کے استعمال کو بڑھانا ایک "تباہ کن" منظرنامہ ہوگا جس سے یمن تنازعہ کے حل کے پٹری سے اتر جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا، اس سے "کم از کم جزیرہ نما عرب کے ارد گرد ایک نئے بڑے تنازعے کے بھڑکنے" اور ایک وسیع علاقائی تنازعہ کے حالات بھی پیدا ہوں گے۔

ان خدشات کے پیشِ نظر یہ غیر یقینی ہے کہ آیا روس اس قرارداد کے مسودے سے اجتناب کرے گا یا ویٹو کر دے گا۔

حتمی مسودہ میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کا مقصد وسیع تر حمایت حاصل کرنا ہے۔

ابتدائی مسودے میں بین الاقوامی قانون کے مطابق رکن ممالک کے اپنے تجارتی اور بحری جہازوں کے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کرنے کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔

حتمی مسودہ کمزور ہے جس سے اقوامِ متحدہ کا کسی بھی ملک کے اپنے جہازوں کے دفاع کے حق کا اعتراف ختم ہو گیا ہے۔ اس کے بجائے یہ اس بات کی توثیق کرے گا کہ سوداگری اور تجارتی جہازوں کے بحری حقوق اور آزادیوں کا احترام ہونا چاہیے اور یہ نوٹ کرے گا کہ "بین الاقوامی قانون کے مطابق رکن ممالک کو حق ہے کہ وہ اپنے جہازوں کو حملوں بشمول بحری حقوق اور آزادی کو نقصان پہنچانے والے حملوں سے بچائیں۔"

حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرنے والے اہم ملک ایران کا نام لیے بغیر یہ مسودہ ملیشیا کے ساتھ اسلحے کے تمام سودوں کی مذمت کرے گا جو سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس میں "حوثیوں کو مزید حملوں کے لیے ضروری مواد حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اضافی عملی کارروائی" کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔

دونوں مسودات صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے بچنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جس قرارداد پر ووٹ دیا جانا ہے وہ وسیع تر ہے۔

یہ "بحیرۂ احمر اور وسیع خطے میں صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے احتیاط اور تحمل کی تاکید کرتا ہے۔" اور یہ "اس مقصد کے لیے تمام فریقین کی سفارتی کوششوں بشمول اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات اور یمن کے امن عمل کے لیے مسلسل حمایت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں