امریکی افواج عراق کی سرزمین سے نکل جائیں: عراقی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے وزیر اعظم نے امریکی و اتحادی افواج سے عراقی سرزمین سے چلے جانے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔ ان کے مطالبے کا یہ اعادہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے نتیجے میں خطے میں پیدا شدہ کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے۔

ایک مہینے کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ عراق کی طرف سے امریکی و اتحادی افواج کے عراق سے انخلا کی بات اعلیٰ ترین سطح سے سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل عراقی وزیر اعظم محمد الشیاع السوڈانی کے دفتر نے بتایا تھا کہ ایسی ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملات کو دیکھے گی۔

وزیر اعظم عراق نے جمعرات کے روز اپنے اس مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی افواج کا عراق میں آپریشن اختتام کو پہنچنا عراق کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔ انھوں نے اس مطالبے کا اظہار ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ہے۔

وزیر اعظم محمد السوڈانی کو ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی مدد سے اقتدار میں سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں ان کا یہ مطالبہ ایک سے زائد بار سامنے آنا کافی اہم ہے۔ کیونکہ امریکی جنگی طیارے حالیہ ہفتوں میں ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروپوں کو کئی بار نشانہ بنا چکے ہیں۔

واضح رہے امریکی افواج عراق میں 2014 سے تعینات ہیں اور امریکہ کے بقول وہ عراق میں داعش کے خلاف جاری جنگ میں کردار ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔ عراق میں 2500 امریکی فوجی تعینات ہیں جبکہ شام میں 900 امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے بعد ایرانی حمایت یافتہ گروپوں بطور خاص حوثیوں نے امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور ان پر ڈرون یا میزائل حملے کیے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 17 اکتوبر سے 11 جنوری تک 130 حملے کیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے عراق میں امریکی تنصیبات پر 53 حملے اور شام میں 77 حملے کیے گئے ہیں۔

امریکہ نے بھی نہ صرف یہ کہ ان حملوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے بلکہ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں پر ڈرون حملے بھی کیے ہیں اور ان کے کمانڈروں کو ہلاک بھی کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عراق میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں