فلسطین اسرائیل تنازع

خان یونس پر اسرائیلی ٹینکوں کی چڑھائی، دو ہسپتال مریضوں کے لیے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجوں نے جو غزہ کی اب تک کی سب سے ہلاکت خیز جنگ میں مغربی خان یونس کے اندر پیش قدمی کر رہی ہیں، پیر کے روز ایک ہسپتال پر دھاوا بولا ہے اور دوسرے کا محاصرہ کر لیا ہے، جس سے زخمیوں کے لیے علاج کے راستے بند ہو گئے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ ان فوجوں نے پہلی بار، جنوبی غزہ کے بڑے شہر خان یونس کے مغرب میں بحیرہ روم کے ساحل کے نزدیک ماواسی ضلع میں پیش قدمی کی ہے۔ جہاں انہوں نے الخیر ہسپتال پر ہلہ بولا اور وہاں کے طبی عملے کو گرفتار کیا۔

اسرائیل نے ہسپتال کی صورت حال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ نہ ہی فوجی ترجمان کے دفتر سے بھی کچھ بتایا گیا ہے۔ تاہم دن کے بعد کے حصے میں فوج نے بتایا کہ پیر کو جنوبی غزہ میں اس کے تین فوجی مارے گئے۔

ترجمان اشرف القدرہ نے کہا ہے کہ خان یونس میں راتوں رات کم از کم پچاس افراد مارے گئے جب کہ طبی سہولتوں کے محاصرے کا مطلب ہے کہ درجنوں ہلاک شدگان اور زخمی انہیں بچانے اور نکالنے والوں کی پہنچ سے باہر تھے۔

فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ ٹینکوں نے خان یونس میں ایک اور ہسپتال العمل کو بھی محاصرے میں لے لیا ہے۔ جو امدادی ایجنسی کا ہیڈ کوارٹرز ہے اور اس کا وہاں اپنے عملے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس اور ہلال احمر کے ترجمان ٹوماسو ڈیلا لونگا نے بتایا کہ ہسپتال کے گرد جو کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں ہم سخت پریشان ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایمبولینس گاڑیاں نہ اندر جا سکتی ہیں نہ وہاں سے باہر آ سکتی ہیں اور ہم علاقے میں لوگوں کو ہنگامی بنیاد پر کوئی علاج معالجہ فراہم نہیں کر سکتے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجو ہسپتالوں کے اندر اور اطراف میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جس کی حماس اور طبی عملہ تردید کرتا ہے۔

اسرائیل نے خان یونس پر قبضے کے لیے گزشتہ ہفتے حملہ شروع کیا تھا۔ جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ اب حماس کے عسکریت پسندوں کا سب سے بڑا ہیڈ کوارٹرز ہے۔ جو جنوبی اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے کی ذمہ دار ہے جس میں اسرائیل کے فراہم کردہ اردو شمار کے مطابق 1340 لوگ مارے گئے تھے۔

جنگ کے تازہ ترین مرحلے میں لڑائی محصور علاقے کی آخری حدوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ علاقہ ان لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو بمباری سے بچ کر بھاگے ہیں۔ اور غزہ کے صحت سے متعلق عہدیداروں کے مطابق اب تک کم از کم پچیس ہزار دو سو پچانوے لوگ مارے جا چکے ہیں۔

النصر ہسپتال جو خان یونس کا سب سے بڑا اور واحد ایسا ہسپتال ہے جو قابل رسائی ہے اور اب بھی کام کر رہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے ٹراما وارڈ میں زخمیوں کا ہجوم ہے جو زمین پر پڑے ہیں جہاں ان کا علاج ہو رہا ہے اور فرش خون سے لتھڑا ہوا ہے۔

ادھر برسلز میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے رہورٹروں کو بتایا کہ غزہ میں صورت حال قابو سے باہر ہے اور انہوں نے یورپی یونین سے کہا کہ وہ جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔

اسرائیل اس وقت تک جنگ روکنے کو تیار نہیں ہے جب تک وہ بقول اس کے حماس کو ختم نہیں کر دیتا۔ جب کہ فلسطینی اور کچھ مغربی فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ گروپ کے مختلف حصوں میں منقسم ڈھانچے اور غزہ میں اس کی گہری جڑوں کے سبب یہ مقصد ناقابل حصول ہے۔

حماس کے رہنما سمیع الزہری نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا کہ حماس تمام اقدامات اور تجاویز پر غور کے لئے تیار ہے لیکن کسی بھی معاہدے کی بنیاد جارحیت کے خاتمے، قبضے کے خاتمے اور غزہ سے مکمل واپسی پر ہونی چاہئیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں