فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی امدادی کارروائیوں میں پھر رکاوٹ امدادی ٹرکوں کی تعداد صرف 200 یومیہ رہ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے رفح راہداری سے غزہ کے لیے جاری محدود امدادی کارروائیوں کو بھی روک کر اور کم کر دیا ہے۔ یومیہ غزہ پہنچنے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد 600 کم کر کے اب صرف200 کر دی ہے۔

اسرائیلی ہتھکنڈے سے تباہ حال غزہ کے مکینوں کے لئے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا۔

یہ بات مصر کے صدر السیسی نے اپنے سول اور فوجی حکام کے ایک مشترکہ اجلاس کے دوران خطاب میں بدھ کے روز کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا اسرائیل نے ایک بار پھر زیر محاصرہ غزہ کے لوگوں رفح کے راستے بھیجے جانے والے امدادی ٹرکوں کو روکنا شروع کر دیا ہے۔ یہ رکاوٹوں کی نئی صورت حال پچھلے تیں چار دنوں سے دیکھی جارہی ہے۔

صدر السیسی کے مطابق ان پیدا کی گئی رکاوٹوں کے سبب اب یومیہ بنیادوں پر رفح سے چھ سو ٹرکوں کے بجائے صرف دو سو ٹرک غزہ تک پہنچ پاتے ہیں۔ واضح رہے اسرائیل کی یہ پیدا کردہ رکاوٹیں غیر اعلانیہ ہیں اور یہ غزہ کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش ہے۔

السیسی نے کہا اسرائیل کا یہ حربہ یرغمالی چھڑانے میں اپنی شرائط کے سبب ہے وہ چاہتا ہے دباؤ بڑھا کر اپنی شرائط اور مطالبات منوا لے۔بلا شبہ اس حربے کے نتیجے میں غزہ کے لوگوں کے لئے مسائل میں مزید مشکلات ہو گئی ہیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اہل غزہ کی زندگی کیسے گزر رہی ہو گی۔

خیال رہے رفح راہداری بظاہر غزہ کے لیے چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ لیکن اسرائیل کی طرف سے ٹرکوں کی آمدورفت کو روک دیا جاتا ہےجبکہ اوپر سے اسرائیلی بمباری بھی مسلسل جاری ہے۔ ہسپتال تک آج بھی نشانے پر ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ غزہ میں آج پانی میسر ہے نہ بجلی ،نہ ادویات اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیا میسر ہیں۔ جبکہ بیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے بھی اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے پریشان ہیں کہ امدادی کارروائیاں مشکل ترین مشن بن گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں