حملے کا نشانہ بنایا گیا امریکی اڈہ ہماری سرحدوں کے باہر واقع ہے: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے شام سے آنے والے ڈرون سے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور 34 کے زخمی ہونے کے اعلان کے بعد اردن کے وزیر مواصلات اور حکومت کے سرکاری ترجمان مہند مبیضین نے امریکی افواج پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت شامی علاقے میں اردن کی سرحدوں کے قریب واقع ہوئی۔

انہوں نے سرکاری "المملکہ" چینل کو بتایا کہ "یہ حملہ اردن کی سرحد کے قریب شام کے اندر پیش آیا۔ یہ واقعہ اردن کے اندر نہیں ہوا ہے۔ اس حملے میں شام میں التنف بیس کو نشانہ بنایا گیا تھا"۔

تین امریکی فوجی ہلاک

اتوار کے روز امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے اعلان کیا کہ اردن اور شام کی سرحد کے قریب ایک اڈے کے پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 34 دیگر زخمی ہوئے۔

امریکی حکام نے ’سی این این‘ کو انکشاف کیا کہ فوجی رات کے وقت ڈرون حملے میں مارے گئے۔ یاد رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دشمن کی فائرنگ سے امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

"شام کی سرحد کے قریب اڈہ"

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل اتوار کی شام ایک بیان میں تصدیق کی کہ شام کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اردن میں ایک اڈے کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔

امریکی افواج اس مقام (ٹاور 22) پر اردن کے ساتھ مشورے اور امدادی مشن کے حصے کے طور پر موجود ہیں۔

"ڈرون شام سے آیا تھا"

اس کے علاوہ ’العربیہ‘ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اردن میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والا ڈرون شام سے آیا تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ شام کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اردن میں امریکی افواج پر ڈرون حملے میں تین امریکی مارے گئے۔

انہوں نے اردن میں ہمارے اڈے پر حملے شام اور عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "اردن کے قریب جو کچھ ہوا وہ ایک بڑی جارحیت ہے۔"

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں اور عراق سے شام، یمن اور لبنان تک کئی محاذوں پر کشیدگی عام طور پر بڑھ گئی ہے، جہاں ایران کے وفادار اور حمایت یافتہ مسلح دھڑے موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں