مشرق وسطیٰ

’’امریکہ دھمکیاں بند کرے، ایران کا ردعمل فیصلہ کن اور فوری ہو گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے امریکہ سے دھمکی آمیز زبان کا استعمال بند کرنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکہ کے حملے کی صورت میں ان کے ملک کا ردعمل فیصلہ کن اور فوری ہو گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اپنی زمینوں، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا "فیصلہ کن اور سختی سے" جواب دے گا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ میں ایران کے خصوصی ایلچی نے امریکہ کی طرف سے اردن میں اپنے فوجیوں پر مہلک حملے کا جواب دینےکی دھمکیوں کے بعد ایران نے ممکنہ طور پر کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی’آئی آر این اے‘ نے کل بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اپنی زمینوں، مفادات اور شہریوں پر کسی بھی حملے کا "فیصلہ کن اور سختی سے" جواب دے گا۔

ایجنسی نے اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران کو گذشتہ دو دنوں کے دوران ثالثوں کے ذریعے امریکا سےکوئی پیغامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے نے مزید کہا کہ تہران اپنی سرزمین پر کسی بھی حملے کو "ریڈ لائن" سمجھتا ہے جس کا مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ان کا ملک "خطے میں کسی فرد یا گروہ کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ہے"۔

ایروانی نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں واضح کیا ہے کہ عراق اور شام میں امریکی فوجیوں اور تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے الزامات "غیر ذمہ دارانہ، غیر منصفانہ اور بے بنیاد ہیں"۔

ایرانی ایلچی کا یہ بیان امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکا نے اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے عراقی گروپ کو جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں واشنگٹن نے ایک حملے میں اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا جس میں شام اور اردن کی سرحد پر التنف بیس سے تعلق رکھنے والی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شام میں دھڑوں کی سرگرمیاں بند کی جائیں

اس تناظر میں، ایرانی پاسداران انقلاب نے شام میں اپنے وفادار دھڑوں کو ملک میں امریکی اڈوں کے خلاف اپنی فوجی سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کل بدھ کو اطلاع دی ہے کہ شام کے صحرا اور دیر الزور میں ایران نواز دھڑوں کے تمام مقامات خاص طور پر دیر الزور کے مقامات پر دو دن سے الرٹ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بوکمال، المیادین تدمر کے دیہی علاقوں میں عراقی الحشد ملیشیا کے عناصر کی موجودگی کی وجہ سے ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔

منگل کو عراقی حزب اللہ بریگیڈز نے عراقی حکومت کو پریشانی سے بچانے کے لیے امریکی افواج کے خلاف فوجی اور سکیورٹی آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے اپنے جنگجوؤں سے کہا کہ "اگر ان کے خلاف کوئی دشمن امریکی کارروائی ہوتی ہے تو وہ عارضی طور پر غیر فعال دفاع کریں"۔

گذشتہ ہفتے امریکہ نے حزب اللہ بریگیڈز کے خلاف فضائی حملے شروع کیے اور کہا کہ ان حملوں میں بریگیڈز اور دیگر مسلح گروپوں کے زیر استعمال تین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ حملے اردن کی سرحد پر موجود امریکی فوجی اڈے پر ایک ڈرون حملے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں