ایف بی آئی نے بدھ کو کہا کہ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر نے اسرائیل کی قانونی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملاقات کے لیے ملک کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جبکہ اسرائیل غزہ میں خوں ریز جنگ لڑ رہا ہے۔
بیورو کے ایک بیان کے مطابق کرسٹوفر رے نے تل ابیب میں مقیم ایف بی آئی ایجنٹوں سے بھی ملاقات کی اور لبنان میں فلسطینی گروپ حماس اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ پر ان کے کام کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کے تناظر میں ایف بی آئی کی اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بیان میں کہا، "ایف بی آئی کی اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ شراکت داری دیرینہ، قریبی اور مضبوط ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان حملوں کے جواب میں اتنی تیزی سے آگے بڑھنے کی صلاحیت میں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہماری مدد ہر ممکن حد تک ہموار ہے، ہماری ایجنسیوں کی قربت نے اہم کردار ادا کیا۔
سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل میں حملے کے نتیجے میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ حماس نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا۔
اسرائیل کی مسلسل جوابی فوجی مہم میں حماس کے زیرِ اقتدار علاقے میں وزارتِ صحت کے مطابق 28,500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ اگرچہ اسرائیل کے ردِعمل اور اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد پر تنقید کی ہے۔
بیورو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کرسٹوفر رے کی "کلیدی توجہ" غیر ملکی تنظیموں کے خلاف ایف بی آئی کی ان کوششوں پر ہے جو اسرائیل پر حملوں کی تعریف کرتے ہیں اور بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک امریکہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی نے اسرائیل کی طرف سے حمایت کے لیے "درخواستوں کا جواب دیا ہے اور دیتی رہے گی۔"