فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ: امداد کے منتظر لوگوں پر بم برسا دیے، سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی

امداد کے لیے جمع فلسطینیوں پر حملہ سوچا سمجھا قتل عام ہے: فلسطینی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں امداد کے حصول کے لیے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والوں پر بمباری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی سطح پر غزہ میں بڑھتے انسانی المیے پر بار بار خبردار کیا جا رہا ہے۔

شمالی غزہ کی پٹی میں نابلسی گول چکر میں جمع لوگوں پر اسرائیلی حملے میں 100 سے زائد شہری ہلاک اور تقریباً 1000 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ اور الحدث کے مطابق یہ اس وقت ہوا جب غزہ سٹی جبالیہ اور بیت حانون سے ہزاروں فلسطینی غزہ شہر کے مغرب میں شیخ عجلین کے علاقے میں ہارون الرشید کوسٹل روڈ پر انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کی آمد کے منتظر تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے کچھ شہریوں پراس وقت براہ راست فائرنگ کی جب وہ امداد کے منتظر تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بڑی تعداد میں زخمیوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی عملے کے پاس ان زخمیوں کے علاج کے لیے سہولیات موجود نہیں۔ کئی لاشوں اور زخمیوں کو غزہ شہر کے بیپٹسٹ ہسپتال اور جبالیہ کے کمال عدوان ہسپتال میں بھی منتقل کیا گیا۔

انسانی حقوق گروپ یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے تصدیق کی کہ اس کی فیلڈ ٹیم نے غزہ میں "ہزاروں بھوکے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کرنے والے اسرائیلی ٹینکوں کے دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں‘‘۔

"سوچا سمجھا قتل عام"

غزہ میں سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کا بے گھر ہونے والوں پر یہ سوچا سمجھا حملہ اور قتل عام ہے۔

ادھر حماس تحریک نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نسل کشی کے جرائم جاری رہنے کی وجہ سے مذاکرات کی ناکامی کا خمیازہ اسرائیل کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’مذاکرات فلسطینی عوام کے خون کی قیمت پر کھلا عمل نہیں ہوسکتے‘‘۔

30 ہزار اموات

ادھر غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر سے اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسرائیلی بمباری میں 70,000 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق اور زخمی ہونےوالوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں