فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی اتھارٹی کے اگلے متوقع وزیراعظم، محمد مصطفیٰ کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

محمد مصطفیٰ فلسطینی اتھارٹی کے متوقع طور پر وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں، ایک بڑی فلسطینی کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ایسے اتحادی ہیں جو کم پائے جاتے ہیں۔ انہیں غزہ کی تعمیر نو میں حماس کی حکمرانی کے تحت کردار ادا کرنے کا موقع مل چکا ہے۔

محمد مصطفیٰ امریکی تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ فلسطینی ٹیلی کام کمپنی ' پال ٹیل' کو چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کے زیر اہتمام فلسطین انوسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کو رواں دواں رکھنے میں بروئے کار رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایک ارب ڈالر تک کی رقوم پورے فلسطین میں استعمال کرنے میں کردار ادا کیا۔

محمد مصطفیٰ کو تقریباً دس سال پہلے غزہ کی تعمیر نو میں اس وقت مدد کرنے کا موقع ملا جب حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ سے پہلے والی جنگ ہوئی تھی۔

فلسطینی قائدین شاید یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر کام آئیں گے جنہیں غزہ میں تقریباً پانچ ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے بعد غزہ کی پٹی پر بحالی اور تعمیر نو پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینی زمین پر محدود تر اختیارات رکھتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کے پاس بہت محدود قطعہ اراضی حکمرانی کے لیے موجود ہے بلکہ اس کے اختیارات کا دائرہ بھی محدود تر ہے۔ اس اتھارٹی سے 2007 میں غزہ کا کنٹرول حماس کو منتقل ہو گیا تھا۔ جس نے اس سے پہلے کے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی تھی۔ تاہم فلسطینی جماعتوں میں باہمی تنازعے کے باعث غزہ کی حکمرانی کی الگ رہی اور فلسطینی اتھارٹی کی الگ۔ اب حماس کے بغیر غزہ کو اکٹھا کرنے کی ایک کوشش فلسطینی اتھارٹی کے علاوہ اسرائیل اور بین الاقوامی سطح پر بھی موجود ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے موجودہ وزیراعظم محمد اشتیہ فتح گروپ کے ایک ممبر ہے۔ انہوں نے پچھلے ہفتے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم محمود عباس نے انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ محمد مصطفیٰ اگرچہ فتح گروپ کے باقاعدہ ممبر نہیں ہیں مگر انہیں بالعموم ایسے دیکھا جا رہا ہے کہ وہ فلسطینی گروپوں کے درمیان ایک کم متنازعہ شخصیت ہوں گے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ محمود عباس انہیں کب وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کرتے ہیں اور وہ حکومت بنانے میں کتنی دیر لیتے ہیں۔ اگر محمد مصطفیٰ کو وزیر اعظم مقرر کیا جاتا ہے تو انہیں انتظامی اور سفارتی لحاظ سے کافی چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔ انہیں غزہ میں دور تک پھیلے ہوئے ملبے اور تقریباً 23 لاکھ بےگھر فلسطینیوں کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا۔ جنہوں نے پچھلی کئی دہائیوں سے ایسی کشت و خون دیکھی تھی نہ ایسی تباہی۔

اس کے علاوہ انہیں اربوں ڈالر کی متوقع بین الاقوامی امداد کے استعمال کو بھی دیکھنا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ انہیں بیک وقت حماس کی سیاسی حمایت کے علاوہ اسرائیل سے بھی تعاون چاہیے ہوگا۔ ایسے اسرائیل سے جو حماس کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔

امریکہ جو جنگ کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو حکومت میں ایک قائدانہ کردار کے لیے دیکھ رہا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے ہاں کافی اصلاحات کرے۔ فلسطینی ماہر اقتصادیات محمد ابو جیاب کے مطابق 'صورتحال یہ ہے کہ ہر کوئی بحران سے دوچار ہے۔ فتح گروپ مغربی کنارے میں بحران کا ساما کر رہا ہے جبکہ حماس کو غزہ میں ایک بہت سنگین بحران کا سامنا ہے۔ ان حالات میں 69 سالہ محمد مصطفیٰ بہتر حل پیش کر سکتے ہیں۔'

7 اکتوبر ایک بڑے مسئلہ کی علامت

محمود عباس نے محمد مصطفیٰ کو 2015 میں فلسطینی انویسٹمنٹ فنڈ کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ وہ ایک نائب وزیر اعظم کے طور پر ذمہ داری انجام دیتے رہے۔ جسے 2013 سے 2014 تک معاشی شعبہ کو دیکھنا تھا۔ جب غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک کمیٹی کی قیادت کرنے کا انہیں کہا گیا اس وقت غزہ پر 7 ہفتے کی جنگ نے تباہی مسلط کی تھی اور 2100 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ آج غزہ کی جنگ پانچ مہینوں کو چھو رہی ہے اور فلسطینی شہداء کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ جبکہ سارے کا سارا سول انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہے۔

محمد مصطفیٰ نے اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران 17 جنوری کو ڈیواس میں خطاب کے دوران کہا تھا 'آج کی جنگ کی تباہی کے انسانی حوالے سے اثرات کہیں زیادہ ہیں۔ جو دس سال پہلے کی جنگ کے تھے۔ ان کے غزہ میں جنگی تباہی کے ریمارکس سے ہر کوئی اتفاق کرتا ہے اور اس جنگی تباہی کو ہر ایک کے لیے بدقسمتی قرار دیتا ہے۔ لیکن ایشو یہ ہے کہ مسئلہ جس قدر نظر آرہا ہے حقیقتاً اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینی عوام جو 75 برسوں کے دوران مسلسل مصائب اور مشکلات سے دو چار رہے ہیں وہ بھی ان دنوں سب سے بڑی تباہی دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ہمارا یہ یقین ہے کہ فلسطینی ریاست ہی اس مسئلہ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ حالات جیسے بھی ہیں ہم اپنی اس منزل کو پا لیں گے جس کے بعد خطے کے تمام لوگ امن و استحکام کے ساتھ رہ سکیں گے۔

محمد مصطفیٰ محمود عباس کے زیر قیادت پی ایل او کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن ہیں اور 1993 کے اوسلو معاہدے کے بعد سے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ امید رکھتے ہیں کہ 1967 کے مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں