اسرائیل غزہ میں بھوک کا ہتھیار استعمال کر رہا، قحط کی تعریف کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گزشتہ ہفتوں کے دوران اقوام متحدہ نے بارہا غزہ کی پٹی میں قحط کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اس کی تنظیموں اور عہدیداروں نے ایک سے زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ اسرائیل محصور اور گنجان آباد غزہ کی پٹی میں فاقہ کشی کا ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے ترجمان جینس لایرکا نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں قحط تقریباً ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اموات انتباہی علامات ہیں۔ یہ بہت تشویشناک ہیں۔ اس تنازع سے قبل خوراک کے تحفظ کی حالت اس قدر بری نہیں تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے پاس خوراک تھی اور وہ اپنی خوراک خود تیار کر سکتے تھے لیکن اب غزہ میں خوراک کی پیداوار بھی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔ اکتوبر میں حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل کی طرف سے غزہ میں شروع کی گئی جنگ سے پہلے ماہی گیری غذائیت، آمدنی اور خوراک فراہم کرنے کی صلاحیت کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ یہ سب مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔ لوگوں کے روزمرہ کے ذریعہ معاش کی بنیادیں تباہ ہو گئی ہیں۔

قحط کے دہانے پر موجود غزہ میں کھانے کے حصول کی کوشش
قحط کے دہانے پر موجود غزہ میں کھانے کے حصول کی کوشش

اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے اداروں کے پاس قحط کی حالت کا تعین کرنے کے لیے کچھ معیارات ہیں لیکن اب تک انہوں نے غزہ کی پٹی میں تباہ کن صورتحال کے باوجود قحط کا اعلان نہیں کیا۔

غزہ میں قحط قرار نہ دینے کی وجہ کیا ہے؟

قحط کا اعلان کرنے کے لیے اقوام متحدہ اپنی مخصوص ایجنسیوں جیسے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن پر انحصار کرتی ہے۔ یہ ادارے ایک تکنیکی ادارے پر انحصار کرتے ہیں جسے "انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن" یا آئی پی سی کہا جاتا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی معیارات پر مبنی پیمانے پر غذائی عدم تحفظ کی شدت کا تجزیہ کرتا ہے۔

اہل غزہ کے بچے کھانے کے لیے برتن آگے کئے ہوئے
اہل غزہ کے بچے کھانے کے لیے برتن آگے کئے ہوئے

قحط خوراک کی شدید کمی کی حالت ہے جس کی خصوصیات بھوک، موت، بدحالی اور شدید غذائیت کی سطح سے ہوتی ہے۔ اسے خوراک کے تحفظ کی مربوط عبوری درجہ بندی کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ کے پیمانے کے فریم ورک کے اندر سب سے خطرناک مرحلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پانچ مراحل ہیں: پہلا مرحلہ کم سے کم، دوسرا مرحلہ تناؤ، تیسرا مرحلہ بحران، چوتھا مرحلہ ایمرجنسی اور پانچواں مرحلہ تباہی یا قحط کہلاتا ہے۔

قحط کب شمار ہوگا؟

اس آخری مرحلے تک پہنچنا اس وقت ہوتا ہے جب ایک مخصوص علاقہ معیار کے ایک سیٹ پر پورا اترتا ہے۔ اس کے کم از کم 20 فیصد خاندان شدید غذائی قلت کا شکار ہوں اور کم از کم 30 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں۔ اس کے علاوہ ہر روز دس ہزارمیں سے کم از کم دو افراد مر رہے ہوں۔ ہر دس ہزار پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے کم از کم چار بچے بھوک یا غذائی قلت اور بیماری کے درمیان ہوں۔ مثال کے طور پر صومالیہ میں جب 2011 میں سرکاری طور پر قحط کا اعلان کیا گیا تو متاثرین کی کل تعداد میں سے نصف بھوک سے مر چکے تھے۔

ساحلی غزہ کی پٹی میں 24 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ مصر کے ساتھ سرحد پر جمع ہونے والے ہزاروں امدادی ٹرکوں کے داخلے کو روک دیا ہے۔ کچھ لوگوں کو داخلے کی اجازت دی گئی، یہ انتہائی قلیل مقدار تھی جس سے بھوک نہیں مٹائی جاتی۔ اسرائیل نے اونروا کے امدادی ٹرکوں کو بھی ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا۔ تقریباً ایک ماہ قبل خاص طور پر شمال کی طرف امداد لانا بند کر دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ غزہ کی ایک چوتھائی آبادی قحط سے صرف ایک قدم دور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں