فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی جانب سے الزامات کے بعد اونروا کی کارروائیاں خطرے میں: سربراہ اونروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ادارے کے خلاف"ایک دانستہ اور ٹھوس مہم" کا مقصد اس کی کارروائیوں کو ختم کرنا ہے۔

اسرائیل نے ادارے پر حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے 450 سے زیادہ "فوجی کارکنوں" کو ملازمت دینے کا الزام لگایا ہے۔

فلپ لازارینی نے سوموار کو اسرائیلی فوج کی طرف سے لگائے گئے تازہ ترین الزامات پر خاص طور پر بات نہیں کی، لیکن انہوں نے کہا کہ"انروا کو اپنی کارروائیوں کو کمزور کرنے اور بالآخر انہیں ختم کرنے کے لیے ایک دانستہ اور ٹھوس مہم کا سامنا ہے،"

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ان دی نیئر ایسٹ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا ''کہ غزہ کی پٹی میں ہمارے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد پہلے ہی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اونروا کو ختم کرنا کم نظری ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم بچوں کی ایک پوری نسل کو قربان کر دیں گے، نفرت، ناراضگی اور مستقبل کے تنازعات کے بیج بوئیں گے۔"

لازارینی نے 193 رکنی اسمبلی کو بتایا کہ 16 ممالک سے کل 450 ملین ڈالر کی فنڈنگ روکنے کے بعد انروا "ہاتھ سے کام کر رہا ہے"

خیال رہے کہ اسرائیل نے جنوری میں اونروا کے 12 افراد پر حماس کے عسکریت پسندوں کے ساتھ حملے میں حصہ لینے کا الزام لگایا ہے۔

اس کے بعد اونروا کے عملے کو برطرف کر دیا گیا اور اقوام متحدہ کی ایک آزاد داخلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

لازارینی نے اونروا کو "غزہ میں انسانی امداد کی ریڑھ کی ہڈی" کے طور پر بیان کیا۔

اونروا غزہ میں 13,000 افراد کو ملازمت دیتا ہے، اسکول، صحت کی دیکھ بھال کے کلینک اور دیگر سماجی خدمات چلاتا ہے، اور انسانی امداد تقسیم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تقریباً 3,000 افراد فی الحال غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں، جہاں 576,000 افراد - آبادی کا ایک چوتھائی - قحط سے ایک قدم دور ہیں۔

"غزہ میں، اقوام متحدہ خود ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر گیلاد اردان نے پیر کے روز جنرل اسمبلی میں کہا۔

غزہ میں جنگ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے سے شروع ہوئی تھی، جب اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 253 یرغمال بنائے گئے تھے۔ حماس کے زیر انتظام علاقے میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی مہم کے نتیجے میں تقریباً 30,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں