غزہ میں جنگ رُکنے کا کوئی امکان نہیں: فلسطینی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بدھ کے روز کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود غزہ پر جنگ روکنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ریاض المالکی نے قاہرہ میں منعقدہ عرب وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں دور سے کی گئی تقریر میں مزید کہا کہ اسرائیل بھوک کا ہتھیار استعمال کر کے آبادی پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ انہیں بے گھر ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل امداد کو آبادی پر اپنے دباؤ کا حصہ سمجھتا ہے تاکہ انہیں بے گھر ہونے پر مجبور کیا جائے اور پھر بے گھر کیا جائے، انہوں نے کہا فلسطینیوں کو رفح میں نقل مکانی پر مجبور کیا گیا تھا۔

تباہی کی جنگ اور بھوک

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کو ان کے مقصد کو ختم کرنے کے ارادے سے منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ ان کیمپوں کے مکینوں کو دوبارہ بے گھر کیا جارہا ہے۔

اسرائیل بین الاقوامی نااہلی کے باوجود فلسطینی عوام کے خلاف اپنی تباہی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، اسرائیل فاقہ کشی کی جنگ لڑ رہا ہے اور بھوک سے متاثر افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر بچوں کی، اسرائیل مختلف تنظیموں کی انسانی ہمدردی کی تمام کوششوں کو روک رہا ہے۔

بھوک، بمباری اور سنائپنگ

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اجلاس میں کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ جب فلسطینی بھوک، بمباری یا سنائپرز کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں تو انسانیت خاموش کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ایک پوری قوم کے خلاف مکمل تباہی کی جنگ ہے۔ ان جنگ کے ہتھیار گولیاں، بم اور بھوک ہے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی بربریت میں غزہ کی پٹی پر 30,534 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں