فلسطینی صدراتی دفتر نے جمعرات کو اسرائیلی آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے'' وفا ''کے مطابق صدراتی دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ سخت گیر اسرائیلی وزیر ایتامار بن گویر اور کنیسٹ کے رکن عامیت ہلیوی کی قیادت میں آبادکاروں نے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کیں، جو تاریخی اور قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ میں جاری اقدامات ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہیں، جو ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد مسجدِ اقصیٰ میں نئی زمینی حقیقت مسلط کرنا اور اسے زمانی و مکانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
فلسطینی صدراتی دفتر نے زور دے کر کہا کہ 144 دونم پر مشتمل پورا مسجدِ اقصیٰ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اسرائیلی قبضے کا نہ تو القدس شہر پر کوئی حقِ حاکمیت ہے اور نہ ہی اس کے مقدسات پر۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اسرائیل کو القدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تمام خلاف ورزیوں اور یکطرفہ اقدامات سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اور سخت مؤقف اختیار کرے۔
محافظۂ القدس نے کہا ہے کہ نام نہاد ''ہیکل کی تباہی کی یاد'' کے موقع پر 2300 سے زائد اسرائیلی آبادکاروں نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخلہ کیا۔
محافظۂ القدس نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی پولیس نے پہلی بار مسجدِ اقصیٰ پر قبضے کے بعد آبادکاروں کی آمد کے دوران ان کی سہولت کے لیے مسجد کے احاطے میں ایک خصوصی چھتری نصب کی، جسے ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا گیا۔
بیان کے مطابق یہ اقدام مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں، خصوصاً مشرقی حصے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط بنانے، نئی زمینی حقیقت مسلط کرنے اور مسجد کی تاریخی و قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اسرائیل نے جون 1967ء کی جنگ کے بعد مشرقی القدس اور مسجدِ اقصیٰ پر قبضہ کر لیا تھا، اور اس وقت سے شہر اور مسجد براہِ راست اسرائیلی فوجی اور سکیورٹی کنٹرول میں ہیں۔
محافظۂ القدس نے مزید بتایا کہ مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونے والوں میں اسرائیل کی سخت گیر حکومت کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے کنیسٹ کے رکن عامیت ہلیوی بھی شامل تھے۔
محافظۂ القدس نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے ایک وقت میں مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونے والے آبادکاروں کے ہر گروہ کی تعداد بڑھا کر تقریباً 150 افراد تک پہنچا دی ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی فورسز مسجدِ اقصیٰ کے تمام داخلی راستوں اور پرانے شہر کے اطراف سخت پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اہلکار مسجد کے مختلف صحنوں میں بڑی تعداد میں تعینات ہیں اور نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔
محافظۂ القدس نے کہا کہ فجر کی نماز کے وقت صرف انتہائی محدود تعداد میں نمازی مسجدِ اقصیٰ تک پہنچ کر نماز ادا کر سکے، جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے متعدد شہریوں اور نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق، آج صبح درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے نام نہاد ''ہیکل کی تباہی کی یاد'' کے موقع پر مسجدِ اقصیٰ میں داخلے کے دوران قبۃ الصخرہ کے مغربی جانب وہ عمل دہرایا جسے ''سجودِ ملحمی'' کہا جاتا ہے۔