اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ منی سکیورٹی اور سیاسی کونسل کا اجلاس جمعرات کی رات دیر گئے منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر اور پولیس کمشنر یعقوب شبتائی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے کہا کہ "ایتمار بین گویرنیتن یاہو سے کہا کہ "آپ مجھ سے کچھ ایسا کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں جو میرے موقف کے خلاف ہے۔ دروازوں پر بھیڑ بارے میں کوئی حقیقی جواب نہیں ہے اور ہمیں سکیورٹی رسک اور ایک حفاظتی خطرہ ہے"۔ ان کا اشارہ مسجد اقصیٰ میں رمضان کے دوران مسلمان نمازیوں کی بڑھتی تعداد کے بارے میں تھا۔
بین گویرکے بیان کے بعد نیتن یاہو نے پولیس کمشنر پر چیختے ہوئے کہا کہ "لیکن آپ نے کہا کہ یہ ممکن ہے۔ ہم نے ہفتے کے آغاز میں ایک بحث کی تھی۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ اس کے قابل ہیں اور فیصلے پہلے ہی ہو چکے ہیں"۔
پولیس کمشنر نے جواب دیا کہ "یہ درست نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ گیٹ پر زیادہ بھیڑ اور سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔اسی وجہ سے ہم نے داخل ہونے والوں کی عمریں محدود کرنے کی بات کی"۔
اسرائیلی جنگی کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ اسرائیل میں موجود عربوں کو مسجد اقصیٰ میں عمر کی پابندی کے بغیر 50 سے 60 ہزار کی شرح سے داخلے کی اجازت دی جائے، تاہم مغربی کنارے کے رہائشیوں کے داخلے کا منصوبہ فی الحال تیار نہیں کیا گیا۔
جنگی کونسل نے بین گویر کا اختیار واپس لے لیا کہ یہ تعین کرنے کے لیے کہ کس کو الاقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔