فلسطین اسرائیل تنازع

امریکہ کاغزہ میں خوارک گرانے کا سلسلہ جاری، تیسری بارگرائی گئی خوراک کی مقدارکم ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے دس مارچ کو غزہ میں قحط کی زد میں آئی 80 فیصد آبادی کے لیے 11500 کھانے جہاز کے ذریعے گرائے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کی کوشش اور اردن کے ساتھ شراکت سے یہ امریکہ کی تیسری کوشش تھی۔

تاہم تیسری بار جہاز سے گرائی گئی اس خوراک کی کھیپ پہلے کے مقابلے میں کم کر دی گئی ہے۔ یاد رہے امریکہ نے پہلی بار 38000 کھانوں پر مشتمل خوراک غزہ کے لیے گرائی تھی۔ دوسری بار کھانوں کی یہ تعداد 40000 کر دی گئی، مگر تیسری بار صرف 11500 کھانے گرائے گئے ہیں۔ تاہم اس کمی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

پچھلے پانچ ماہ کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں 23 لاکھ کے قریب فلسطینی غزہ میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق ان میں سے 80 فیصد فلسطینی قحط کی زد میں ہیں۔ شمالی غزہ میں صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے ، جہاں بھوک سے اموات ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ ان فلسطینیوں تک اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث زمینی راستے سے ادویات کا پہنچنا بھی تقریباً ناممکن ہے۔

اس بھوک کی وبا نے سب سے پہلے فلسطینی بچوں میں موت بانٹنا شروع کی ہے۔ بھوک کی وجہ بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے نوٹس لیا اور غزہ جنگ کے پانچ ماہ مکمل ہونے کے ساتھ جس طرح غزہ میں قحط کے حالات کے پیش نظر ہوائی جہاز کے ذریعے خوارک گرانے کے عمل میں شریک ہو چکا ہے اور اب بحری راستے سے بھی امدادی سامان کی ترسیل کی تیاری شروع کر چکا ہے۔

اتفاق سے اس گرائی گئی خوارک پکڑنے والوں میں سے چند افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم یہ سلسلہ اب باقاعدگی اختیار کر رہا ہے اور وقفے وقفے سے امریکہ سینٹ کام نے خوراک گرانی شروع کی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اتوار کے روز غزہ میں خوراک گرانے کا عمل اردن کی شاہی فضائیہ کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔

ایک جاری کردہ بیان کے مطابق دس مارچ کو دن کے دو بجکر سات منٹ پر شمالی غزہ میں خوراک گرائی گئی۔ اس خوراک میں آٹا ، چاول کے علاوہ ڈبہ بند خوراک شامل تھی۔ امریکی سینٹ کام کے دعوے کے مطابق اب تک امریکہ نے 135000 کھانے ہوائی قطروں کی صورت گرائے ہیں۔

صدر جوبائیڈن کے اعلان کے مطابق امریکہ بحری راستے سے غزہ کے عوام کو خوراک اور امدادی سامان کے للیے بحر متوسط میں ایک نئی اور عارضی بندرگاہ بھی قائم کرے گا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس بندرگاہ کے قیام میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔

واضح رہے صرف شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت 760000 فلسطینی قحط کی سی کیفیت سے دوچار ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہوائی طریقے سے خوراگ گرانے کے اس عمل کو ناقدین محض ایک ہوائی سا کام قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح کی تنقید بحری راستوں سے خوراک پہنچنے کے بارے میں ہے۔ ان ناقدین کے مطابق زمینی راستوں کا متبادل کچھ نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح اسرائیلی کی رکاوٹوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں