امدادی ٹرکوں کےانتظار میں غزہ کےچھے باشندے اسرائیلی فائرنگ سےہلاک: فلسطینی محکمۂ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کی وزارتِ صحت کے حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اسرائیلی فائرنگ سے چھ فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے جب غزہ شہر میں امدادی ٹرکوں کے منتظر رہائشیوں کا ہجوم تھا۔

رہائشیوں اور صحت کے حکام نے بتایا کہ بدھ کی شام تادیر شمالی غزہ شہر کے کویت گول چکر پر فلسطینی امدادی سامان لینے کے لیے بھاگ رہے تھے جب اسرائیلی افواج نے فائرنگ کر دی۔

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر واقعے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

غزہ میں تنازعہ نے انکلیو کی 2.3 ملین آبادی میں سے بیشتر کو بے گھر کر دیا ہے اور امداد کی تقسیم کے دوران افراتفری کے مناظر اور ہلاکت خیز واقعات رونما ہوئے ہیں کیونکہ شدید بھوکے لوگ خوراک حاصل کرنے کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔

29 فروری کو فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے 100 سے زائد فلسطینیوں کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ غزہ شہر کے قریب امدادی سامان کی ترسیل کا انتظار کر رہے تھے۔ اسرائیل نے ہلاکتوں کا ذمہ دار امدادی ٹرکوں کو گھیرے ہوئے ہجوم پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرک نے متأثرین کو روند دیا تھا۔

وسطی غزہ کی پٹی کے النصیرات کیمپ میں فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا کہ جمعرات کو امدادی تقسیم کے ایک مرکز کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں آٹھ افراد مارے گئے۔

فلسطینی طبی ماہرین نے بتایا کہ دیر البلح میں وسطی غزہ میں بھی ایک اسرائیلی میزائل نے ایک گھر کو نشانہ بنایا جس میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔

رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیل کی فضائی اور زمینی بمباری رات بھر انکلیو کے اطراف کے علاقوں بشمول جنوب میں رفح میں جاری رہی جہاں دس لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد پناہ گزین ہیں۔

جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے مزاحمت کاروں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا۔ حماس کے زیرِ انتظام غزہ میں صحت کے حکام کہتے ہیں کہ اس کے بعد اسرائیل نے فضائی، سمندری اور زمینی حملہ کیا جس میں 31,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے جمعرات کو کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 69 فلسطینی ہلاک اور 110 زخمی ہوئے۔

جنگ کا اب چھٹا مہینہ جاری ہے تو اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کم از کم 576,000 افراد - آبادی کا ایک چوتھائی - قحط کے دہانے پر ہیں اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انکلیو تک مزید امداد کی رسائی کی اجازت دے۔

اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی تردید کی ہے۔ اس نے امدادی اداروں کی ناکامیوں کو تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور حماس پر امداد کا رخ موڑنے کا الزام لگایا ہے۔ حماس اس کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائی میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

امداد لے جانے والا ایک بحری جہاز اس وقت بحری ترسیل کی پائلٹ آزمائش میں غزہ کے قریب پہنچ رہا ہے جس کے بعد توقع ہے کہ امریکی فوج غزہ کے ساحل پر ایک عرشہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی جس سے روزانہ 20 لاکھ کھانوں کی تقسیم ممکن ہو گی۔

امدادی بحری جہازوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے فلسطینی اور اقوامِ متحدہ کے حکام کہتے ہیں کہ سمندری ترسیل زمینی گذرگاہوں کے ذریعے امداد بھیجنے کا متبادل نہیں ہے۔

حماس نے جمعرات کے روز غزہ، مغربی کنارے اور یروشلم میں اسرائیل کے خلاف جمعہ کو مظاہروں اور حملوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے جو مسلمانوں کے مقدس ماہِ رمضان کا پہلا جمعہ ہے۔

حماس نے ایک بیان میں کہا، ’’ہم اپنے انقلابی نوجوانوں، تمام مغربی کنارے اور یروشلم کے ہمسایہ میں مزاحمتی فوجی دستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر جلوس نکالیں۔

اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ جنوبی اسرائیل میں بیت کاما جنکشن پر جمعرات کو ایک شخص پر چاقو سے وار کیا گیا۔ اس نے کہا کہ حملہ آور کو "بے اثر" کر دیا گیا تھا لیکن اس کی شناخت یا حالت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں