فلسطین اسرائیل تنازع

ابتدائی تحقیقات میں اقوامِ متحدہ کی اونروا میں غیر متعینہ خامیوں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی اونروا کی ابتدائی تحقیقات میں "نازک معاملات" کا پتہ چلا ہے جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اونروا جنوری میں تنازعہ کی زد میں آ گیا تھا جب اسرائیل نے اس کے 30,000 ملازمین میں سے 12 پر سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے فوری طور پر ملوث عملے کے ارکان کو برطرف کر دیا اور سابق فرانسیسی وزیرِ خارجہ کیتھرین کولونا کی سربراہی میں ایجنسی کی غیر جانبداری کا جائزہ لینے کے لیے اندرونی تحقیقات شروع کر دیں۔

اقوامِ متحدہ کی ترجمان فلورنسیا سوٹو نینو نے کہا، "ایک عبوری رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ "اونروا میں غیرجانبداری کے انسانی اصول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے کافی تعداد میں میکانیات اور طریقۂ کار موجود ہیں۔"

لیکن تفتیش کار جنہوں نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو اپنے نتائج پیش کیے، انہوں نے "ان اہم معاملات کی بھی نشاندہی کی ہے جن پر بدستور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔"

جن معاملات میں اصلاحات کی ضرورت ہے، ان کی وضاحت نہیں کی گئی۔

سوٹو نینو نے کہا، "جائزہ لینے والا گروپ اب اس بارے میں ٹھوس اور حقیقت پسندانہ سفارشات تیار کرے گا کہ اونروا کو مضبوط اور بہتر بنانے کے لیے ان اہم معاملات کو کس طرح حل کیا جائے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اونروا پر ایک حتمی رپورٹ 20 اپریل کو گوٹیرس کو پیش کی جائے گی اور اسے عام کیا جائے گا۔

کولونا نے تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر عملے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور فلسطینی حکام کا انٹرویو کیا جس کی مدد تین تحقیقی گروپس کر رہے ہیں: سویڈن میں راؤل والنبرگ انسٹی ٹیوٹ، ناروے میں مشیلسن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اور ڈینش انسٹی ٹیوٹ برائے انسانی حقوق۔

اسرائیل کے الزامات کے بعد امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور جاپان سمیت تقریباً 15 ممالک نے اونروا کو دی جانے والی فنڈنگ معطل کر دی۔ ان ریاستوں میں شامل کینیڈا اور سویڈن نے اس کے بعد ایجنسی کو امداد بھیجنا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

اونروا غزہ کی سب سے بڑی امدادی تنظیم ہے جو اس علاقے میں تقریباً 13,000 عملے کو ملازمت دیتی ہے جہاں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر سے لے کر اب تک اسرائیل کی بمباری سے تقریباً 32,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں