فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کو برطانوی اسلحہ کی فروخت کے خلاف مہم ، وزیراعظم رشی سونک پر دباؤ بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی طرف سے سات امدادی کارکنوں پر غزہ میں بمباری کرنے کے واقعے کے بعد برطانیہ میں ایک بار پھر یہ مطالبہ شدت پکڑ گیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکی جائے۔ اسرائیل کی ٹارگٹڈ بمباری سے ہلاک ہونے والے سات امدادی کارکنوں میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے۔ برطانیہ نے گزشتہ روز اس واقعے پر احتجاج کے لیے اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم رشی سونک ان دنوں غیرمعمولی طور پر دباؤ کی زد میں ہیں کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل اور فروخت کو روکنے کے اقدامات کریں۔ برطانوی شہری کی غزہ میں ہلاکت نے اس سیاسی دباؤ کو ایندھن فراہم کیا ہے۔

برطانوی اپوزیشن کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت معطل کرنے پر غور کیا جائے۔ لبرل ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی برآمد معطل کی جائے۔ سکوٹش نیشل پارٹی نے بھی اس تحریک کی حمیات کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان ایسٹر کے سلسلے میں اپنی چھٹیوں کو منسوخ کر کے اس بحران پر بحث کرے۔

برطانیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور آئندہ عام انتخابات سے متعلق پولز میں حکومتی جماعت بننے والی لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ اگر وکلاء کہتے ہیں کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند ہونی چاہیے۔

لیبر پارٹی کے خارجہ امور کے سربراہ ڈیوڈ لامے نے کہا ہے کہ 'اب جبکہ یہ مشورہ سامنے آچکا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ روکا جائے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ اسرائیل نے انسانی بنیادوں پر بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس حوالے سے میں ضرور کہوں گا کہ مجھے بھی بڑی تشویش ہے کہ اسلحہ معطل کیا گیا ہے۔'

'ورلڈ سینٹرل کچن ' کے سات امدادی کارکنوں کی اسرائیلی بمباری سے پیر کے روز ہونے والی ہلاکتوں میں امریکہ، برطانیہ، پولینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے شہری شامل تھے۔ جبکہ ایک فلسطینی امدادی کارکن بھی اس ٹیم کا حصہ تھا۔ اسرائیلی بمباری میں وہ بھی جاں بحق ہوا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسے غیر ارادی واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ 'اس واقعہ کی فوج کو ضرور انکوائری کرانی چاہیے۔'

'ورلڈ سینٹرل کچن' کے مطابق امدادی کارکن بکتربند گاڑیوں میں جا رہے تھے۔ ان گاڑیوں پر امدادی سرگرمیوں سے متعلق لوگو بھی موجود تھا۔ نیز اسرائیلی فوج امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت سے آگاہ تھی۔

اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت زیر نظر ثانی

برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے اسرائیل کو اسلحہ فروخت سے متعلق مطالبہ کی مزاحمت کرتے ہوئے کہا ہے 'ملک میں اسلحہ کی برآمدات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔'

اخبار 'سن' کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم برطانیہ نے کہا ہے کہ 'ملک کا اسلحہ سے متعلق برآمدی لائسنس کا نظام بڑی احتیاط کے ساتھ وضع کیا گیا ہے اور سارے حساس پہلوؤں کو خیال میں رکھ کر بنایا گیا ہے اور اسی پر عمل کیا جاتا ہے'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں