طولکرم میں اسرائیلی کارروائی میں14 شہریوں کی ہلاکت کے بعد غرب اردن میں ہڑتال کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی تحریک فتح نے گذشتہ دو روز کے دوران اسرائیلی فوج کی غرب اردن کےشمالی شہر طولکرمیں نورشمس کیمپ میں 14 فلسطینیوں کی ہلاکت کے خلاف بہ طوراحتجاج غرب اردن کے شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

عینی شاہدین نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (اے ڈبلیو پی) کو بتایا کہ اسرائیلی فوج تین روزہ فوجی آپریشن کے بعد نور شمس کیمپ سے باہر نکل گئی ہے۔

فلسطینی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے حملے کے دوران زخمیوں کو نکالنے کے لیے جاتے ہوئے ایک فلسطینی ایمبولینس ڈرائیور کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک الگ واقعے کے دوران کم از کم 12 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں تشدد بڑھ رہا ہے اور غزہ میں لڑائی جاری ہے جب کہ جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔

طولکرم شہر کے قریب نور شمس کیمپ میں ایک الگ واقعے میں صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کی طرف سے کیے گئے ایک توسیعی چھاپے کے دوران کم از کم 12 فلسطینی ہلاک ہوئے۔ فلسطینی ذرائع اور حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بندوق بردار اور دوسرا 16 سالہ لڑکا شامل ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد عسکریت پسند مارے گئے، دیگر کو گرفتار کر لیا گیا اور کم از کم چار فوجی زخمی ہوئے۔

طولکرم بریگیڈ جس میں کئی فلسطینی دھڑوں کے عسکریت پسند شامل ہیں نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز اسرائیلی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا۔

کم از کم تین ڈرون نور شمس کے اوپر اڑتے ہوئے دیکھے گئے، جہاں اسرائیلی فوجی گاڑیاں جمع تھیں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

درایں اثناء غزہ کی پٹی میں طبی حکام اور حماس کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح پر حملے شروع کیے جہاں دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ کی تلاش میں ہیں۔ اسی طرح وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ پر بھی حملے کیے گئے جہاں کم از کم پانچ گھر تباہ ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فورسز وسطی غزہ میں چھاپے مار رہی ہیں جہاں ان کی فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ قریب سے جھڑپ ہوئی۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 فلسطینی شہید اور 68 زخمی ہوئے۔

رواں ماہ کے شروع میں جنوبی علاقوں سے زیادہ تر اسرائیلی جنگی افواج کے انخلاء کے باوجود غزہ میں لڑائی جاری ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں ہلاکتوں کی تعداد 34,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

خان یونس میں اجتماعی قبر

غزہ کی پٹی میں فلسطینی ریڈیو نے ہفتے کے روز بتایا کہ غزہ میں شہری دفاع کے عملے نے خان یونس شہر کے ناصر میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے مختلف گروہوں اور عمروں کے 50 فلسطینیوں کی لاشیں برآمد کیں۔

ریڈیو نے رپورٹ کیا کہ اس قبر میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی لاشوں کو دفن کیا گیا تھا۔ عملہ ابھی تک تلاش کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور باقی لاشوں کو نکال رہا ہے۔

رفح غزہ کا آخری علاقہ ہے جہاں چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں اسرائیلی زمینی افواج داخل نہیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں