غزہ سے متصل امریکی زیر تعمیر بندرگاہ ، 320 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کی غزہ سے متصل زیر تعمیر نئی اور عارضی بندر گاہ پر 320 ملین ڈالر کی رقم خرچ ہو گی۔ اس امر کا اظہار پینٹا گون نے پیر کے روز کیا ہے۔ بندر گاہ کا مقصد غزہ میں امدادی سامان اور خوراک پہنچانا بتایا گیا ہے۔

پینٹا گون کے ڈپٹی پریس سیکرٹری سبرینا سنگھ کے مطابق' ہمارا اب تک کا خمینہ 320 ملین ڈالر کا ہے۔ تاہم یہ ابتدائی لاگت ہو گی۔'

خیال رہے اس امریکی بندر گاہ کو امریکی فوج کی نگرانی میں تعمیر کیا جا رہا ہے اور فلسطینی کارکن اس کی تعمیر کے لئے مزدوری وغیرہ کر رہے ہیں۔ ان فلسطینی مزدوروں کی تعداد ، ہائرنگ کی شرائط اور معاوضے کے بارے میں کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔ بس انہیں تصاویر میں کام کرتے دکھایا گیا ہے۔

پچھلے ہفتے پینٹاگون نے بتایا تھا کہ یہ عارضی بندر گاہ مئی کے آغاز میں استعمال میں لائی جا سکے گی اور بحری راستے سے غزہ میں خوراک اور امدادی سامان پہنچایا جانا شروع ہو جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ خوراک اور امدادی سامان چھوٹی سمندری کشتیوں کی مدد سے غزہ کی ساحلی پٹی پر لایا جائے گا۔ بعد ازاں ٹرکوں پر لاد کر غزہ بھیجا جائے گا۔

غزہ کے ساتھ اس امریکی بندر گاہ کی تعمیر کا اعلان صدر جوبائیڈن نے ماہ مارچ میں کیا تھا۔ جب وہ سٹیٹ آف یونین خطاب کر رہے تھے۔ اسرائیل نے اس سے پہلے امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل روک دی تھی اور بحری راستے کے ساتھ ساتھ فضائی راستے سے امدادی سامان کی ترسیل ہی حل نظر آئے تھے۔

تاہم اقوام متحدہ کے متعلقہ ماہرین نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ زمینی راستے سے امداد اور خوراک پہنچانے کا متبادل نہیں کو سکتا ہے۔ ناقدین نے اس پر اسرائیل کی غزہ کی ناکہ بندی میں مدد دینے کا اعتراض بھی کیا تھا۔ مگر امریکہ نے اسے دو ماہ میں مکمل کرنے کا اندازہ اور تیاری کر رکھی تھی۔ جو اب تکمیل کے قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں