غزہ کے طبی عملے کی طرف سےعالمی عدالت کے تفتیش کاروں کو ثبوتوں کی فراہمی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو باوثوق ذرائع نے خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کوبتایا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے استغاثہ نے غزہ کے دو سب سے بڑے ہسپتالوں میں طبی کارکنوں کے انٹرویوز کیے ہیں۔ عدالت کے تفتیش کاروں نے غزہ کی پٹی میں ممکنہ جرائم کے بارے میں طبی ماہرین سے بات کی اور ان سے شوہد اکھٹے کئے ہیں۔

دو ذرائع نے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ عدالتی تفتیش کاروں نے شمالی غزہ کی پٹی میں غزہ شہر کے مرکزی طبی مرکز الشفا ہسپتال میں کام کرنے والے ملازمین اور ناصر ہسپتال میں کام کرنے والے دیگر افراد سے شہادتیں حاصل کیں۔

دونوں ذرائع نے ممکنہ گواہوں کی حفاظت کے خدشات کے پیش نظر مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔

ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ ہسپتالوں میں پیش آنے والے واقعات عدالت کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کا حصہ بن سکتے ہیں، جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف دوسروں کے ساتھ ساتھ نسل کشی اور جارحیت کے مرتکب افراد کے خلاف فوجداری مقدمات کی جانچ کر رہی ہے۔

عدالت کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے جاری تحقیقات میں آپریشنل مسائل پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے کہا کہ وہ سات اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے اسرائیل پر شروع کیے گئے حملے اور اس کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں تنازع کے دونوں فریقوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

لڑائی کے دوران غزہ کے دو اہم ہسپتال اسرائیلی افواج کے لیے اہم اہداف تھے، جنہوں نے ان کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ کیا اور حماس کے جنگجوؤں پر انھیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا، جس کی حماس اور طبی عملے نے تردید کی۔

گذشتہ دنوں فلسطینی حکام نے ناصر ہسپتال میں اجتماعی قبروں سے سینکڑوں لاشیں نکالے جانے کے بعد تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ دونوں ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ قبریں کسی تحقیقات کا حصہ ہیں۔

اسرائیل جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔غزہ کے ہسپتالوں میں یا اس کی گئی کارروائیاں وہاں پر حماس کی عسکری کارروائیوں کی وجہ سے کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں